خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 187
خطبات طاہر جلد ۲ 187 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء قیام نماز خطبہ جمعہ فرموده یکم اپریل ۱۹۸۳ء به مقام مسجد اقصیٰ ربوہ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے فرمایا: قرآن کریم نے مذہب کا اور خود اپنا جو خلاصہ شروع میں پیش کیا ہے وہ تین لفظی ہے۔سورۃ البقرہ کی پہلی آیت میں تو کتاب کا تعارف ہے اور اس کی تعلیم کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمایا النْ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔اور اگلی آیت میں اس ساری تعلیم کا خلاصہ یہ بیان فرمایا الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ O یعنی ایمان بالغیب ، اقامت الصلوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ۔اگلی آیت یعنی وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ میں پہلی آیت کی تفصیل بیان فرمائی کہ غیب کے کیا معنی ہیں، مومن اقامت صلوٰۃ کی تعلیم کس سے لیتے ہیں، کس طرح اس کا حق ادا کرتے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ جو در اصل بنی نوع انسان کے حقوق کی ادائیگی ہے، وہ کیسے اختیار کرتے ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ مومن یہ سب باتیں آنحضرت ﷺ سے سکھتے ہیں جیسا کہ آپ سے پہلے بھی خدا نے جو بزرگ بھیجے تھے ان سے لوگ سیکھتے رہے تھے اور آئندہ بھی سچی تعلیم وہی سکھائے گا جو آنحضرت ﷺ کی برکت سے خدا ہی سے پائے گا۔پس اس نظام کا خلاصہ بیان فرما دیا جس کے ذریعے انسان ایمان