خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد ۲ 188 خطبه جمعه یکم اپریل ۱۹۸۳ء بالغیب سیکھتا ہے اور یہ نظام خود ایمان بالغیب کا ہی حصہ ہے پھر وہ اقامت صلوۃ یعنی حقوق اللہ کی تعلیم حاصل کرتا ہے اور پھر انفاق فی سبیل اللہ یعنی بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کے اسلوب سیکھتا ہے۔الغرض پہلی تین باتیں جن کی طرف قرآن کریم مومن کو متوجہ کرتا ہے جن کے بغیر نہ وہ متقی بن سکتا ہے، نہ وہ شک سے پاک ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہدایت کی کوئی بھی منزل پاسکتا ہے، وہ ہیں ایمان بالغیب،ا قامت الصلوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ غیب کیا ہے؟ اس کی تفصیل جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اگلی آیت میں اشارہ کر کے یہ بیان فرمائی کہ جو غیب تم نے سیکھنا ہے وہ حضرت محمد مصطفی علی اے سے سیکھ لو۔ایمان بالغیب کیا ہوتا ہے؟ اس کی تفصیل بھی حضور اکرم ﷺ ہی بیان فرمائیں گے لیکن چونکہ آج کے خطبے کا موضوع یہ حصہ نہیں ، اس لئے میں اس کو فی الحال چھوڑتا ہوں۔آج کے خطبے کا موضوع اس تعلیم کا درمیانی حصہ یعنی اقامت الصلوۃ ہے جو اللہ کے حقوق کی ادائیگی سے تعلق رکھتا ہے۔جہاں تک انفاق فی سبیل اللہ کا تعلق ہے گزشتہ متعدد خطبات میں اس کے متعلق مختلف پہلوؤں سے میں توجہ دلا تارہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں اتنی غیر معمولی بیداری پائی گئی ہے کہ میرے تصور کی کوئی چھلانگ بھی یہ اندازہ نہیں کر سکتی تھی کہ مجھے اتنا نمایاں تعاون فی سبیل اللہ حاصل ہو گا۔بعض جگہ تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ خدا کے فرشتے دلوں کو تبدیل کر کے زبر دستی مالی قربانی کی طرف متوجہ کر رہے ہیں اور بعض لوگوں نے رویا دیکھ کر اس طرف توجہ کی یعنی واضح طور پر ان کو ہدایت اور راہنمائی ملی اور پھر وہ مالی قربانیوں میں آگے بڑھے۔اب میں جماعت کو خصوصیت کے ساتھ عبادت کی ادائیگی کی طرف بلانا چاہتا ہوں۔اگر چہ بعض پہلے خطبات میں بھی میں نے اس کی طرف توجہ دلائی تھی لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جب تک بار بار اس کی طرف توجہ نہ دلائی جائے اس وقت تک نہ توجہ دلانے والا اپنے رب کے سامنے اپنی ذمہ داری ادا کر سکتا ہے، نہ وہ لوگ صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کو توجہ دلائی گئی ہو۔ذکر کا مضمون ایک جاری و ساری مضمون ہے اس لئے ہمیں بعض امور کی طرف بار بار توجہ دلاتے رہنا پڑے