خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 186
خطبات طاہر جلد ۲ 186 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۳ء سے دعائیں اٹھتی ہیں کہ ناممکن ہے وہ نا مقبول ہو جائیں اس لئے احباب جماعت میں ایک بڑی کثرت ایسے لوگوں کی ہے جو خدا کی راہ میں قربانی کرنے والوں کے لئے دن رات دعائیں کرتے رہتے ہیں۔چنانچہ جب وہ الفضل میں جماعتی یا انفرادی قربانی کا کوئی واقعہ پڑھتے ہیں تو وہ بے اختیار خدا کے حضور جھکتے اور ان لوگوں کے لئے دعائیں شروع کر دیتے ہیں۔غرض دعا کا یہ نظام ایک زائد فضل کی صورت میں جاری ہے۔یہ نظام بھی ان کی مدد کر رہا ہے اس لئے ان کے لئے تو کسی قسم کے خوف کا کوئی سوال ہی نہیں۔جو روپیہ بچ جائے گا اگر وہ سود پر نہیں لگا ئیں گے تو اللہ تعالیٰ کی برکت کا ایک پاکیزہ نظام انہیں میسر آئے گا جو عام دنیاوی نظام سے کہیں بالا اور بہتر ہے لیکن اگر آپ ان سب باتوں کو بھی چھوڑ دیں تب بھی میں آپ کو بتادینا چاہتا ہوں کہ اسلام کا اقتصادی نظام دنیا کے قانون کے مطابق بھی زیادہ پینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ لا ز ما غالب آئے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ پس جماعت احمدیہ کو چاہئے کہ وہ تو کل کے ساتھ اور تقویٰ کے ساتھ اس پر عمل تو کر کے دیکھے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۲/جون ۱۹۸۳ء)