خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 634 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 634

خطبات طاہر جلد ۲ 634 خطبہ جمعہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۸۳ء انہوں نے آپ کا جزو بننا ہے۔جس چیز نے آپ کے بدن کا جزو بننا ہے اس کی پہلے بھی تو کوئی اصلاح ہوا کرتی ہے۔آپ اسے جتنی خام حالت میں قبول کریں گے اتنا ہی زیادہ آپ کو نقصان پہنچے گا۔آپ نے دیکھا نہیں کہ کھانا کھانے سے پہلے کس طرح اس کی صفائی اور چھٹائی کی جاتی ہے،اس سے گندگی کو دور کیا جاتا ہے اور جس حد تک آپ اسے پاک اور صاف بنا سکیں اس حد تک آپ کے اندرونی نظام کے لئے مفید ہے اس لئے تبلیغ کرنے والی قوموں کو یہ گر ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔قرآن کریم کے اس تاریخی بیان میں گہرا فلسفہ ہے کہ انبیاء لوگوں کے ایمان لانے سے پہلے ان کو نصیحت کیا کرتے تھے اس لئے کہ کل کو جنہوں نے لازماً جزو بدن بن جانا ہے آج ان کی اصلاح کرو ورنہ وہ اپنی بدر سمیں تمہارے اندر لے آئیں گے۔اگر ان کے ساتھ کنکر بھی آئیں گے، اگر ان کے ساتھ ملاوٹیں بھی آئیں گی تو کل تمہارا گردوں کا نظام فیل ہو سکتا ہے، کل تمہارا انتریوں کا نظام خراش کی وجہ سے ایک مستقل بیماری بن سکتا ہے اور بجائے اس کے کہ تمہاری لذت کا انتظام کرے وہ تمہارے لئے دکھ اور تکلیف کا موجب بن سکتا ہے۔تبھی تو فوج در فوج داخل ہونے کے وقت استغفار کی تعلیم دی گئی ہے کہ اس وقت خدا کا خوف کرنا چاہئے اور بخشش مانگنی چاہئے۔پس ہم پر ہر پہلو سے لازم ہے۔اس پہلو سے بھی کہ حضرت محمد مصطفی اے کے امر بالمعروف کا کسی مومن اور غیر مومن سے تعلق نہیں تھا اور اس سے پہلے انبیاء کا بھی کسی مومن اور غیر مومن سے تعلق نہیں تھا وہ سب کے لئے امر بالمعروف کرتے تھے سب کو ہی منکر سے روکتے تھے اور اس پہلو سے بھی کہ اپنا فائدہ ہے بالآخر انہوں نے طوعاً و کرہا آنا ہی آنا ہے۔کچھ دیرلڑیں گے ماریں گے آخر انہوں نے آپ کی گودی میں پڑنا ہے اس لئے ابھی سے ان سے پیار اور محبت کر کے ان کی اصلاح کریں تا کہ آپ کے لئے بعد کے کام ہلکے ہو جائیں۔ایک اور یہ پہلو ہے کہ بعض رسمیں اپنے لئے بوجھ بنتی ہیں، بعض دوسروں کے لئے بھی بوجھ بن جاتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں نہایت ہی خطرناک معاشرتی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔مثلاً بچی کو طاقت سے بڑھ کر تکلف کے ساتھ جہیز دینا اس غرض سے دنیا کیا کہے گی کہ بچی کو کچھ نہیں دیا اس کی کوئی شرعی سند نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو فرماتے ہیں کہ نکاح میں جو لازم ہے وہ صرف اتنا ہے کہ کھڑے ہو کر ایجاب و قبول ہو اور رخصتا نہ ہو جائے صرف اتنا سا فرض ہے چنانچہ