خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 635
خطبات طاہر جلد ۲ 635 خطبه جمعه ۱۶ رد سمبر ۱۹۸۳ء آپ فرماتے ہیں کہ اب بتاؤ اس کے لئے کون سے سودی روپے لینے کی ضرورت ہے اور کیوں بوجھوں کے نیچے دبنے کی ضرورت ہے۔( بدر جلدے نمبر ۵ مورخہ ۵ فروری ۱۹۰۸) پس جہاں تک نکاح اور بیاہ کی اصل ہے وہ انسان کی ایک شرعی اور تمدنی ضرورت ہے جسے پورا کرنے کے لئے سب سے آسان راستہ اسلام نے تجویز کیا ہے لیکن اس بات سے منع بھی نہیں فرمایا کہ بچی کو رخصت کے وقت کچھ دے دیا جائے ہاں اگر اس میں تکلف آ جائے تو چونکہ یہ سنت محمد مصطفی علیہ کے خلاف ہوگا جو کہہ رہی ہے وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ تو اس تکلف کی حد تک اس کے نقصان شروع ہو جائیں گے اور ہوتے ہیں۔نقصان کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ پھر یہ لوگ دکھاوے کی خاطر اپنی طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھاتے ہیں۔قرضوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی عزت نفس بھی تباہ ہو جاتی ہے اور انہیں لوگوں کے سامنے یہ کہہ کر ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں کہ ہمارے پاس بچی کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، ہمیں کچھ دو۔دوسری طرف یہ بوجھ دوسروں پر بھی منتقل ہونے لگتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس پہلی برائی کو مزید طاقت مل جاتی ہے یعنی پھر بعض لوگ اس حد تک آگے بڑھتے ہیں کہ وہ دوسروں سے مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہ تم جہیز دوور نہ ہم تمہاری بچی نہیں لیں گے۔یہ وہ حد ہے جو کسی قیمت پر بھی جماعت کو قبول نہیں ہو سکتی۔یعنی اگر تم خود بوجھ تلے دب رہے ہو، تکلف کر رہے ہو یہ بھی بہت بری بات ہے لیکن اسلام کی منشا کے خلاف اسلام کے احکام کے خلاف کسی بچی والے کو مجبور کرنا کہ وہ اپنی بیٹی کو موٹروں ، قالینوں یا صوفہ سیٹوں کے ساتھ رخصت کرے، یہ ایسی نا جائز حرکت ہے کہ اسے کسی طرح بھی جماعتی نظام برداشت نہیں کر سکتا۔پس اس عادت کو آپ خصوصیت کے ساتھ دور کریں اس کے نتیجہ میں ہماری سوسائٹی میں بہت سے دکھ پھیل چکے ہیں۔میرے علم میں ہے، مجھے بار ہا بڑے دکھ کی ایسی چٹھیاں ملتی ہیں اور پھر جھگڑوں کے وقت فریقین کے مطالبوں کے ساتھ بھی مجھے علم ہو جاتا ہے کہ کیا کیا بے ہودہ حرکتیں پہلے ہو چکی ہیں۔نکاح کے آغاز اور رخصتانہ سے پہلے جو بد نیتیں آپ کے اعمال میں داخل ہو چکی ہوتی ہیں وہ بالآ خر کسی نہ کسی وقت دکھ کا موجب بنتی ہیں۔آخر پر جب اموال کی علیحدگی کے وقت تقسیمیں ہو رہی ہوتی ہیں تو پھر یہ سارے جھگڑے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ فلاں نے تو یہ دیا تھا اور فلاں نے وہ دیا تھا اور فلاں سے یہ لیا گیا تھا اور پھر واپس نہیں کیا گیا۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس سے پھر اگلا محلہ بھی