خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 633 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 633

خطبات طاہر جلد ۲ 633 خطبه جمعه ۱۶ر دسمبر ۱۹۸۳ء کو نچانا، ڈھوم مراثیوں کو بلوانا، آتش بازیاں چھوڑنا ، ایسی نمائش کرنا کہ جس کے نتیجہ میں قوم پر بہت بوجھ پڑتے ہیں ان چیزوں کی نہ کوئی سند ہے نہ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں مروج تھیں اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی اجازت فرمائی بلکہ کھلم کھلا منع فرمایا۔لہذا ان چیزوں سے بھی پر ہیز لازمی ہے ورنہ یہ گردنوں کا طوق بن جائیں گی۔مراد یہ ہے کہ یہ رسمیں رفتہ رفتہ قوم پر قابض ہو جاتی ہیں اور ان کی آزادیاں مسخ کر دیتی ہیں ، وہ رسموں کی غلام ہو جاتی ہیں اور ان سے باہر نہیں آ سکتیں۔اسی طرح موت کے ساتھ کچھ رسمیں بندھی ہوئی ہیں ایسی لغور سمیں ہیں جو نیکی کے نام پر کی جارہی ہیں مثلاً ختم قرآن اس کی کوئی سند حضور اکرم ﷺ یا صحابہ کرام سے نہیں ملتی۔کوئی ایک واقعہ بھی آپ نہیں دیکھیں گے کہ کسی مردہ پر قرآن پڑھ پڑھ کر پھونکا جا رہا ہو اور بخشا جا رہا ہو۔اب اس میں بڑی نفاستیں پیدا ہوگئی ہیں نئی نئی باریکیاں آگئی ہیں۔چنانچہ بعض ختم کھجور کی گٹھلی کے ختم کہلاتے ہیں یعنی کھجوروں کی گٹھلیاں تقسیم کر دی جاتی ہیں اور ہر گٹھلی پر کوئی سورت مثلاً سورۂ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُّ یا سورہ فلق وغیرہ مقرر کر دی جاتی ہے کہ یہ پڑھ پڑھ کر پھونکو اور پھر جو مہمان زیادہ گٹھلیاں ہاتھوں میں سے گزار دے وہ گویا اس مرنے والے کا سب سے زیادہ ہمدرد ہے۔آج کل ایک ختم بادام بھی نکلا ہے گٹھلیوں سے آگے بڑھ کر اب بادام پر قرآن پڑھ پڑھ کر ان کو ایک طرف رکھتے چلے جاتے ہیں ، جتنے زیادہ بادام تمہارے ہاتھوں سے نکلیں گے مردہ اتنے ہی زیادہ اعزاز پا جائے گا اور خدا کے حضور اس کے اتنے ہی گناہ بخشے جائیں گے۔ایسی لغو باتیں ہیں جن کا شریعت سے کوئی بھی تعلق نہیں یہ ساری وہ رسمیں ہیں جنہیں ہم نے مٹانا ہے۔جن کے خلاف ہم نے جہاد کرنا ہے، جن سے ہم نے دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی آزاد کروانا ہے۔میرا یہ مقصد نہیں ہے کہ جماعت نہ کرے۔مجھے علم ہے کہ جماعت تو اس قسم کی رسمیں اختیار نہیں کرتی لیکن آپ کا فرض ہے کہ غیروں کی بھی اصلاح کریں۔یاد رکھیں قرآن کریم بار بارایسی مثالیں دیتا ہے کہ انبیاء اپنے منکرین کی بھی اصلاح کر رہے ہوتے ہیں جو ان کے دعوے پر ایمان بھی نہیں لا رہے ہوتے انہیں بھی نیک نصیحت کر رہے ہوتے ہیں اس لئے اس بات سے قطع نظر کہ جماعت کو دنیا کیا سمجھ رہی ہے آپ کو مسلمان بھی کہتی ہے کہ نہیں جماعت کو معروف باتوں میں غیروں کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔معروف کا حکم دینا چاہئے اور بدیوں سے روکنا چاہئے کیونکہ کل کو