خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 631
خطبات طاہر جلد ۲ 631 خطبہ جمعہ ۱۶/ دسمبر ۱۹۸۳ء پر ) پیش کر دینا۔لوگوں کو با قاعدہ کھانے کی میز پر نہیں بٹھاتے بلکہ وہیں بیٹھے بیٹھے دعا کے ساتھ کچھ چیزیں پیش کر دی جاتی ہیں اس حد تک تو اس میں سردست کوئی حرج نہیں لیکن عموماً جب اجازتیں دی جاتی ہیں یا بعض باتوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے تو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ پھر لوگ آگے قدم بڑھاتے ہیں اور سرک سرک کر پھر اس مقام تک پہنچنے لگ جاتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں پھر باقیوں کو بھی اس سہولت سے محروم کرنا پڑتا ہے۔میں جماعت کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایسی بات نہ کریں اور خواہ مخواہ معاملات کو اس حد تک آگے نہ بڑھائیں کہ یوں محسوس ہو کہ وہ رسم بن چکی ہے اور جماعت پر بوجھ بن گیا ہے اور پھر وہی مصیبت غریبوں پر آپڑی ہے جس سے انہیں بچایا گیا تھا۔تو معروف کی حد تک محض خوشی کے اظہار کے لئے اس قسم کی کچھ خاطر مدارات ہو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔چند دن ہوئے ایک شادی کے موقع پر ایک صاحب تشریف لائے اور کہا کہ کوکا کولا کی تو اجازت ہے جبکہ اس سے چائے کی پیالی ستی پڑتی ہے اس لئے چائے کی اجازت نہ ہونے کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی ، جب سردیاں آگئی ہیں تو چائے کی اجازت ملنی چاہئے۔میں نے کہا کہ اگر چائے کی اجازت ملے گی تو پھر اس کے لوازمات کی بات شروع ہو جائے گی۔اہتمام کیا جائے گا۔پھر میزیں لگائی جائیں گی پھر کرسیاں اور ان کے لئے سائبان۔یہ سارے اخراجات جو چائے کے ساتھ لازم ہیں یہ کوکا کولا کے ساتھ تولازم نہیں اور پھر مٹھائی بھی ساتھ آ جائے گی کہ جب مٹھائی کی بغیر چائے کے اجازت تھی تو چائے کے ساتھ اجازت کیوں نہیں۔پس یہ چیزیں ایسی ہیں جو رفتہ رفتہ جڑ پکڑتی چلی جاتی ہیں اور ان کا حال اس اونٹ والا ہو جاتا ہے جس نے اپنے مالک کو خیمہ سے نکال دیا تھا۔سردیوں کا زمانہ تھا بڑی سردی پڑتی ہے۔صحرا میں جتنی گرمی پڑتی ہے اتنی ہی سردی بھی پڑا کرتی ہے، تو کہانی کے مطابق بے چارہ اونٹ (اس وقت تک تو وہ بے چارہ تھا پھر مالک بے چارہ ہو گیا ) اونٹ نے بڑے ادب سے مالک سے درخواست کی کہ میں تو خیمے سے باہر سردی سے مرا جا رہا ہوں اور تم اندر گرمی میں آرام کر رہے ہو اجازت ہو تو میں تھوڑا سا سر اندر داخل کر دوں۔مالک نے کہا اتنی تو جگہ ہے سر داخل کر لو۔پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے کہا کہ سردی کچھ بڑھ گئی ہے تو اگر گردن بھی ساتھ آ جائے تو کیا حرج ہے مالک نے کہا ٹھیک ہے گردن کی بھی اجازت ہے۔پھر اس نے کہا کہ دیکھو میری چار ٹانگیں ان میں سے اگلی