خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 630
خطبات طاہر جلد ۲ 630 خطبه جمعه ۱۶/ دسمبر ۱۹۸۳ء ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ بعض لوگ غریب ہیں جن میں طاقت نہیں ہے۔بعض لوگ امیر ہیں جن میں طاقت ہے اگر وہ طاقت کے اندرر ہیں اور اسراف نہ کریں تو خاطر مدارات کرنا ناجائز نہیں ہے لیکن اگر امیروں کی اس عادت کی بنا پر ایک ایسی رسم چل پڑے کہ غریب اپنے آپ کو مجبور سمجھے کہ لازماً میں نے خاطر مدارات کرنی ہے ورنہ میری ناک کٹ جائے گی اور اپنے آپ کو پابند سمجھنے لگے تو اس کا وہ فعل ایک طبعی حالت کے نتیجہ میں نہیں ہے بلکہ طبعی حالت کے خلاف ہے۔ان امور کا فیصلہ کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ کی صفت جو ہمیشہ ہمارے لئے راہنما بنی رہے گی اور جس سے متعلق قرآن کریم نے کہا کہ لوگوں کو اچھی طرح بتا دو کہ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (ص: ۸۷) کہ اگر تم مجھے سمجھنا چاہتے ہو تو یہ دیکھ لو کہ میں متکلف نہیں ہوں۔مجھ سے طبعی حالتیں ظاہر ہوتی ہیں اور کسی غیر کی طاقت، جبر ، دباؤ یا غیر اللہ کے کسی خوف سے میری ان طبعی حالتوں میں تم کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے۔پس اگر جماعت میں یہ بات اسی طرح جاری رہتی کہ جو غریب ہے وہ اپنی توفیق کے مطابق کچھ خرچ کرتا یا نہ کرتا اس کی عزت نفس پر فرق نہ پڑتا ، غیر اللہ کا خوف اسے اپنی طاقت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور نہ کرتا تو غالبا اس حکم کی ضرورت نہ رہتی۔یہ بھی ممکن تھا کہ اگر امرا اسراف کرنے لگ جاتے ، نام و نمود اور نمائش کی خاطر خرچ کرنے لگ جاتے تو اس وجہ سے انہیں بھی روکا جاتا۔چنانچہ مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ ان غریبوں کی وجہ سے جو مجبور ہوکر ایک غلط کام میں مبتلا ہورہے ہیں اور غلط بوجھ اٹھانے لگ گئے ہیں میں نے ساری جماعت کو حکم دیا ہے کہ جن کو طاقت بھی ہے وہ بھی اپنے کمزور بھائیوں کی خاطر رک جائیں اور ان کی عزت نفس کا خیال کریں تو ان کا رکنا ان کے لئے ثواب کا موجب ہوگا کیونکہ ان کے اس فعل سے غریبوں کو حوصلہ ہوگا وہ سمجھیں گے کہ یہ کوئی ضروری بات تو تھی نہیں امیر بھی نہیں کر رہے ہم بھی نہیں کر رہے۔تو اس سے بہت سے ایسے مصارف ہیں جن سے انہیں نجات ملے گی وہ اپنی بچی کو جو کچھ دنیا چاہتے ہیں انہیں توفیق ملے گی کہ بجائے لوگوں کو چائے پلانے کے ایک دو جوڑے کپڑوں کے بچی کو دے دیں۔یہ طریق بنیادی طور پر اسی طرح جاری ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اس میں کچھ نرمی پیدا ہوئی ہے اور خلفاء نے مختلف اوقات میں کچھ نرمی کی ہے مثلاً پانی پیش کر دینا، پان پیش کر دینا یا صرف مٹھائی (خشک مٹھائی کے طور