خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 632
خطبات طاہر جلد ۲ 632 خطبہ جمعہ ۱۶/ دسمبر ۱۹۸۳ء دو کو اندر داخل کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ساری ٹانگیں تو ٹھنڈی نہیں ہونی چاہئیں۔تو اس نے کہا چلوٹھیک ہے اور پھر خود سکڑ کر ایک طرف ہو گیا۔کچھ دیر کے بعد اونٹ نے کہا کہ اب مجھ میں صبر کی طاقت باقی نہیں رہی اب بقیہ رات تم باہر نکلو اور میں اندر آؤں گا۔تو بعینہ اسی طرح رسم و رواج داخل ہوتے ہیں۔پھر کسی ایک مقام پر اگر چھوٹے سے حصے کو آپ کہیں کہ یہ نا جائز ہو گیا ہے تو یہ درست نہیں ہوتا۔قوم کی حالت پر تو عمومی نگاہ رکھنی پڑتی ہے ورنہ کسی ایک مقام پر وہ تنکا آ ہی جاتا ہے کہ پھر جس کے بوجھ سے کمر ٹوٹنے لگتی ہے اس لئے اس چھوٹی چھوٹی چیزوں پر نگاہ رکھ کر رو کنا پڑتا ہے۔پس یہ اصول پیش نظر رہنا چاہئے کہ ان چیزوں میں جو حلال اور حرام کی بینات میں داخل نہیں ہیں۔ان کی آگے پھر قسمیں ہیں۔ان میں کچھ ایسی ہیں جو بعض حالات میں جائز اور بعض حالات میں ناجائز ہو جاتی ہیں اس وقت میں اس قسم سے متعلق بات کر رہا ہوں۔ایسی باتوں سے پر ہیز کریں جو بعض حالات میں جائزہ بھی ہوتی ہیں لیکن اگر ان میں آپ زیادتی کر جائیں تو نا جائز ہو جاتی ہیں اور اگر مزید زیادتی کریں تو وہی چیزیں شیطنت کہلاتی ہیں چنانچہ قرآن کریم نے وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا (بنی اسرائیل : ۲۷) کہہ کر تبذیر کرنے والوں ، حد سے زیادہ فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی ،شیطان کا ساتھی قرار دیا۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ احکامات میں اتنی واضح تقسیمیں نہیں ہیں کہ ایک چیز اچانک حرام اور اچانک حلال ہو جاتی ہے۔بعض ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں حلال چیز حرام اور حرام چیز حلال ہو جاتی ہے۔مثلاً مرتے ہوئے کے لئے سو رکھانا ، یہ اس کے برعکس مثال ہے۔تو بار یک نظر سے ان ساری چیزوں کا مطالعہ کرتے رہنا چاہئے۔پس جہاں تک جماعت کا تعلق ہے کوشش یہ کریں کہ اسراف سے کام نہ لیا کریں ، جائز چیزوں میں بھی حد کے اندرر ہیں۔قرآن کریم طیب کھانے کی اجازت دینے کے بعد ساتھ ہی اسراف سے بھی منع فرماتا ہے۔فرماتا ہے بے شک کھاؤ ،حلال اور طیب ہو، لیکن اسراف نہ کرو۔(الاعراف:۳۲) تو بہت سی رسمیں ہیں۔بہت سے ایسے افعال ہیں جو اسراف کے نتیجہ میں منع کرنے پڑتے ہیں۔کچھ ایسے افعال ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ وہ اغلال“ ہیں، گردنوں کے طوق ہیں۔وہ ایسی رسمیں ہیں جو خصوصیت کے ساتھ لغو میں داخل ہوتی ہیں۔کسی حالت میں بھی پسندیدہ نہیں ہیں عام زندگی کی حالت میں بھی ان سے بچنا چاہئے مثلاً شادی کے وقت ڈھول ڈھمکے، لنچنوں