خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد ۲ 604 خطبه جمعه ۲/ دسمبر ۱۹۸۳ء آپ کو اپنے وطن سے نکال دے گی تو بڑی معصومیت سے پوچھا کہ مجھے؟ مجھے کیوں نکال دے گی؟ یعنی مطلب یہ تھا کہ میں تو قوم کے اخلاق کا علمبردار ہوں میں تو ان میں سے زیادہ عادل ،سب سے زیادہ محسن، سب سے زیادہ امین ہوں تو مجھے کس وجہ سے نکال دے گی۔( صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب بدء الوحی) تو جھولا سے مراد یہ تھی کہ اس امانت کے بوجھ کے جو تقاضے ہیں اور غیروں کی طرف سے جو بکثرت ظلم ہونے والے ہیں ان سے غافل تھا۔ظَلُومًا اپنے نفس کے لئے ہے یعنی یہ غیروں پر ظلم کرنے والا نہیں اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور اپنے آپ پر بہت ہی زیادہ بنتی کرتا ہے۔طاقت سے بڑھ کر حد سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی تمنا رکھتا ہے۔اس کا ظلم غیروں پر نہیں بلکہ یہ وجود وہ ہے جس پر غیر ظلم کریں گے اور اس کے باوجود اس سے غافل ہے۔پس ایک معنی تو یہ ہوئے اور ایک اور معنی ہے کہ علم کے باوجود اس بات سے بے پرواہ ہے کیونکہ جھولا عرب اس بہادر کے لئے استعمال کیا کرتے تھے جو موت کے خطرات سے خوب واقف ہو اور اس کے باوجود اس میں چھلانگ لگا دے اور اس بات سے مستغنی ہو کہ اس پر کیا گزرے گی تو آنحضرت ﷺ سے متعلق یہ دونوں معنے صادق آتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی آغاز نبوت میں یہ کیفیت تھی کہ آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی شخص نیکی کے بدلہ میں بدی کر سکتا ہے لیکن جب معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ہونا ہے اور جتنا کہا گیا تھا اس سے بہت بڑھ کر آپ پر مظالم ہوئے تو اس وقت جھولا کا یہ معنی تھا کہ آپ ان خطرات کو خوب جان گئے تھے تب بھی ایک انچ پیچھے نہیں ہے۔بڑی جرأت اور مردانگی سے ان سارے مظالم کو برداشت کیا جو غیر نے آپ پر کئے اور اس کے باوجود امانت میں کوئی فرق نہ آیا۔یہ امانت کیا ہے؟ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ اس کا ایک معنی جو عرف عام میں بھی مشہور ہیں اور مختلف مفسرین نے بھی لکھے ہیں وہ ہے ” شریعت اور شریعت اسی کو عطا ہوتی ہے جو امین ہو۔امانت کے بنیادی معنی اطمینان اور بے خوفی کے ہیں۔وہ شخص جو ایسی حالت کو پہنچ جائے کہ اس سے دنیا بے خوف ہو جائے اسے امین کہتے ہیں اور جو ایسے اخلاق کو پا جائے کہ اس کے نتیجہ میں اسے کوئی خوف نہ رہے وہ بھی امانت دار ہوتا ہے، یعنی خوف کی حالت سے بے خوفی کی حالت تک پہنچ جانا یہ بھی امین کے معنوں میں داخل ہے اور دوسروں کو بے خوف کر دینا یہ بھی اس کے معنوں میں شامل ہے۔