خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 603 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 603

خطبات طاہر جلد ۲ 603 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۳ء روزے رکھنے والا ہوں تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایسے غلطی خوردہ کی غلطی کو ہمیشہ کے لئے یہ فرما کر دور کر دیا کہ مومن وہ نہیں ہے جو صرف عبادت کرے اور روزے رکھے بلکہ مومن وہ ہے جس کے شر سے انسان، ان کا خون اور ان کے اموال بھی محفوظ ہوں۔( صحیح بخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون۔۔تو حقیقت یہ ہے کہ حقوق العباد کے سوا حقوق اللہ ادا ہو نہیں سکتے اور حقوق اللہ ادا کرنے والے انسان کبھی بھی حقوق العباد سے غافل نہیں ہو سکتے۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کو وقتاً فوقتاً تذکیر کی ضرورت ہے، یاد کروانے کی ضرورت ہے کہ ہمارا کیا مقام ہے، ہم کس بلند مقام پر فائز کئے گئے ہیں اور کیا ہم اس کے تقاضوں کو ہر پہلو سے پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔اس سلسلہ میں میں نے یہ سوچا ہے کہ ایک ایک خلق سے متعلق مختلف اوقات میں جب بھی خدا تعالیٰ توفیق عطا فرمائے خطبات میں جماعت کو نصیحت کروں۔اس سلسلہ میں سب سے پہلا خلق جس کی طرف میری توجہ مبذول ہوئی وہ امانت ہے۔امانت دراصل وہ خلق ہے جو زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے ، مذہب کا آغاز ہی امانت سے ہوتا ہے، مذہب کا دوسرا نام امانت ہے۔چنانچہ جو آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا کہ ہم نے امانت یعنی شریعت کو آسمانی وجود جو نظر آ رہے تھے ( یہاں امانت سے مراد کامل شریعت ہے یعنی دین کامل ) وہ جو مذہبی دنیا سے تعلق رکھتے تھے ان کے سامنے بھی پیش کیا ، زمین کے سامنے بھی پیش کیا ، آسمان کے سامنے بھی پیش کیا، پہاڑوں کے سامنے بھی پیش کیا فَأَبَيْنَ اَنْ يَحْمِلْنَهَا وہ اس کامل امانت کا حق ادا کرنے سے ڈر گئے وَ حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ چنانچہ انسان کامل آگے آیا یعنی محمد مصطفی میل ہے اور اس نے اس امانت کا بوجھ اٹھایا إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا یہ اپنے نفس پر بہت ظلم کرنے والا اور اس بات سے بے پرواہ ہے کہ اس امانت کے بوجھ کے نتیجہ میں اس پر کتنے مظالم ہونے والے ہیں کیسے کیسے دکھوں کا اسے سامنا ہوگا۔چنانچہ آغا زوجی پر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو یہ کہا گیا کہ آپ کی قوم