خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 605
خطبات طاہر جلد ۲ 605 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۳ء یعنی اگر انسان امانت کا حق ادا کرتا ہے تو اسے کوئی خطرہ اور خوف نہیں ہے اور جو امانت کا حق ادا کرنے والا ہو اس سے غیر کوکوئی خوف نہیں ہوتا۔امین کا لفظ انسانوں کے لئے تو آتا ہے اللہ کے لئے نہیں آتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے اور امانت میں عدم ملکیت کے معنی پائے جاتے ہیں۔امانت ایسی چیز کو کہتے ہیں جس کی ملکیت کسی غیر کی ہو اس نے صرف اس کا حق ادا کرنا ہے وہ غیر کے تابع مرضی ہو جائے اور اس کی امانت میں خود دخل اندازی کوئی نہ کرے۔اللہ تعالیٰ چونکہ مالک ہے اس لئے سارے قرآن کریم میں اللہ کے لئے کہیں بھی امین کا لفظ نہیں آیا۔ہاں مومن کا لفظ آتا ہے جو خدا کی نسبت بہت ہی وسیع معنی رکھتا ہے۔بہر حال جہاں تک آنحضور ﷺ کا تعلق ہے جب ہم امانت کے پہلو پر غور کرتے ہیں تو ایک معنی یہ بنیں گے کہ وہ شریعت کا امین بنایا گیا، الہام الہی کا امین بنایا گیا اور وہ ایسا کامل امین تھا کہ اس نے ایک ذرہ بھی ، سرمو بھی اس امانت میں فرق نہیں کیا۔ہر قسم کی بیرونی مخالفتوں اور ہر قسم کی اندرونی خواہشات کے باوجود اس نے امانت میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔اندرونی خواہشات کے لحاظ سے وہ ظلوم تھا، اپنے نفس کی ہر تمنا کو خدا تعالیٰ کی خاطر کچلنے والا تھا۔بیرونی خطرات کے لحاظ سے وہ جھول تھا دنیا کی کوئی طاقت اسے ڈرا کر یا خوف دلا کر امانت کے حق سے باز نہیں رکھ سکتی تھی۔ایک اور معنی جو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائے اور اس سے پہلے کسی مفسر کی نگاہ اس پر نہیں پڑی وہ یہ ہیں کہ امانت سے مراد وہ تمام طاقتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائی ہیں، ذہنی طاقتیں ، جسمانی طاقتیں قلبی طاقتیں ، روحانی طاقتیں جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو ودیعت فرمایا ہے وہ خود اس کا مالک نہیں بلکہ وہ سب کچھ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت دیا گیا اور امین وہ ہوگا جو ہر اس چیز کو جو کسی نے اس کے سپرد کی ہے اس کے تابع مرضی استعمال کرے اور خرچ کرے۔جہاں جہاں اسے دخل دینے کی اجازت دی گئی ہے وہاں وہاں دخل دے، جہاں دخل کی اجازت نہیں وہ نہ دے، غرضیکہ ایک ذرہ بھی اس مالک کی مرضی کے خلاف تصرف نہ کرے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ان معنوں میں کامل امین جو دنیا میں ظاہر ہوا وہ حضرت محمد مصطفی ملتے تھے۔آپ نے اپنی ان تمام طاقتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ودیعت فرمائی تھیں بلا استثناء خدا کی تابع مرضی کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی گواہی خود دوسرے لفظوں میں دی کہ