خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 564 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 564

خطبات طاہر جلد ۲ 564 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۳ء بعض دفعه مهمان بار بار بتانے کے باوجود سفر کی دقتوں کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے اپنے بستر لے کر روجہ سے ا۔ نہیں آتے اور یہ ناممکن ہے کہ ایک خاص تعداد سے زیادہ آنے والوں کو بستر مہیا کئے جاسکیں ۔ تو اس کے لئے چند سال پہلے میں نے ایک گھر میں ایک بڑی اچھی ترکیب دیکھی تھی۔ بستر بنانے کی وہ بڑی سادہ سی ترکیب ہے اگر اسے اختیار کیا جائے تو وقتی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ انہوں نے پرانی کھاد کی بوریاں دھو کر اس سے غلاف بنا لئے اور ان میں پرالی بھر دی اور ان کو اوپر نیچے سے ٹیک کر کے ایک طرف رکھ لیا اور جب ان کے مہمان آئے جن کے پاس بستر وغیرہ نہیں تھے تو ان کو اس کی تو شکیں دے دیں اور جو زائد تو شکیں ہوں وہ اوپر لینے کے کام آ جاتی ہیں ۔ چنانچہ اس طرح ڈبل بستر بن گئے ۔ میں نے جب ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نہایت ہی کامیاب تجربہ ہے، گرم بھی بہت رہتا ہے اور نرم بھی ہے۔ اس تو شک کو دیکھ کر مہمان بہت خوش ہوئے۔ تو بہت سستی تو شک بن جاتی ہے روئی خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پرالی آپ کو مفت میں مل جائے گی اور بیویاں بچے اور بیٹیاں مل کر دو دو ٹانگے لگا کر تو شکیں بنالیں اور اس کے بعد پھر آپ کو رکھنے میں بھی آرام ہے۔اسے خالی کیا اور اگر کوئی گائے بکری وغیرہ ہے تو تو شک کا اندرونی حصہ (پرالی ) اسے کھلا دیں اور باہر والا حصہ ( غلاف ) دھو کر تہہ کر کے رکھ لیں تو آپ کی یہ تو شکیں بہت چھوٹی سی جگہ میں آجائیں گی۔ پس اس طرح کی ترکیبیں سوچ کر مہمانوں کے لئے اور بھی آسائش کا انتظام کریں۔ مغسل خانے اور لیٹرینز کی وقت کے سلسلہ میں میں نے دیکھا ہے کہ اگر کوئی میزبان یہ ارادہ کرے کہ میں نے کچھ کرنا ہے تو بہت چھوٹی چھوٹی چیزیں ایسی ہیں جن کے خریدنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر انسان فیصلہ اور ارادہ کرلے تو اکثر تو آسانی سے انتظام ہو جاتا ہے۔ غسل خانے بنانے کا تو وقت ہی نہیں ہے، اس کے لئے خرچ کی بھی بہت ضرورت ہوتی ہے لیکن وقتی غسل خانے آسانی سے بنائے جاسکتے ہیں ۔ مثلاً ہم نے اپنے گھروں میں بھی دیکھا ہے شروع شروع میں ہم نے اس طرح کے غسلخانے بنائے تھے کہ باہر اینٹوں کا ایک تھڑ ا سا بنا لیا اس کے اوپر مٹی کے مٹکے رکھ دیں اور ان میں پانی بھر دیں یا اگر توفیق ہو تو گرم پانی کا بھی ساتھ ہی انتظام کر دیں۔ ایک چھوٹا سا ڈرم رکھ کر اس میں آگ جلا دی جائے تا کہ جس نے بھی پانی گرم کرنا ہو تھوڑا سا پانی مٹکے سے لیا اور تھوڑا سا وہاں سے لے لیا۔ پھر یہ بھی کہ باتھ روم کی دیوار کے ساتھ چھوٹے چھوٹے شیشے لگا دیں اور اگر چالیچی نہیں بنائی