خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 560
خطبات طاہر جلد ۲ 560 خطبه جمعه ۲ نومبر ۱۹۸۳ء مکان کا افتتاح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان کریں۔یہ بہت ہی بابرکت افتتاح ہوگا تو اس لئے انہیں بھی چاہئے کہ اگر وہ نامکمل حالت میں بھی ہیں یا اندازہ لگا کر اگر وہ سمجھیں کہ پندرہ یا بیس دسمبر تک وہ جلسہ کے انتظام کے سپرد کر سکیں گے تو اس وقت کی کیفیت ان کے اندازے کے مطابق کہ دروازے ہوں گے یا نہیں، کھڑکیاں ہوں گی یا نہیں، کتنے کمرے ہیں غسل خانوں کے انتظام کی کیا کیفیت ہے، لیٹرینز موجود ہیں یا نہیں، ان سے متعلق جملہ معلومات افسر جلسہ کو مہیا کر دیں تا کہ وہ انہیں بھی اپنے تخمینوں میں شامل کر لیں۔مکانات کے علاوہ دوسری بہت اہم ضرورت خدمات کی پیشکش ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اہل ربوہ ہمیشہ ہی بہت اعلیٰ نمونہ خدمات پیش کرنے میں دکھاتے ہیں۔ایسے ایسے گھر بھی ہیں جن میں کام کرنے والا ایک ہی بچہ ہوتا ہے اور وہ اسے ہی پیش کر دیتے ہیں۔پھر وہ کام کس طرح چلاتے ہیں اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔بہر حال ربوہ کے کارکنوں کی طرف سے بہت ہی اعلیٰ روح دکھائی جاتی ہے خصوصاً چھوٹے بچے تو اس محبت اور اخلاص کے ساتھ سردی میں کام کرتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر روح وجد کرتی ہے۔دنیا کی کسی قوم میں ایسے بچوں کا نمونہ نہیں ملے گا نہ امیر قوموں میں نہ غریب قوموں میں نہ مغربی میں نہ مشرقی میں کہ ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر اور وہ مقصد بھی ایسا اعلیٰ کہ رب عظیم سے تعلق رکھنے والا مقصد ہوا سے حاصل کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے بچے نہایت ہی غریبانہ حالت میں جنہیں تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے بھی میسر نہ آ رہے ہوں وہ والہانہ جذبہ کے ساتھ خدمت کریں اور ایسی خدمت کریں کہ جو مزدوروں کی مزدوریوں سے بڑھ جائے۔میں نے بچوں کو ایسے مشقت کے کام بھی کرتے دیکھا ہے کہ روٹیوں کی ٹوکریاں بھر بھر کے لے جانا اور پھر ساری رات تھوڑا سا وقفہ ملتا ہے پھر وہ سارا دن وہی کام کرتے ہیں کہ جو عام طور پر مزدور بھی اس قدر محنت سے نہیں کر سکتے۔پس اہل ربوہ کو یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے کہ آپ خدمت کا جذ بہ پیدا کریں وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے موجود ہے، صرف یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اب اس خدمت کو پیش کرنے میں دیر نہ کریں اور جو بھی بچہ یا جوان پیش ہوا سے پہلے سے ہی ان کی ذمہ داریوں سے مطلع کر دینا چاہئے۔اتنے بڑے انتظامات میں بعض اوقات کمزور بھی داخل ہو جاتے ہیں۔بعض بچے بری