خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 499

خطبات طاہر جلد ۲ 499 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء کھو دینے کی نسبت ان لوگوں کی محبت کے کھو دینے کے خوف سے مغلوب ہو جاتے ہیں جن میں آپ رہ رہے ہوتے ہیں۔ان کے تاثرات جو آپ کے متعلق ہوں گے وہ آپ کی زندگی کے نقشے بنار ہے ہوتے ہیں اور دماغ میں یہ ہوتا ہے کہ خدا کا تصور ہماری زندگی کا نقش بنا رہا ہے۔آپ اپنے ماحول سے ڈرتے ہیں، اپنے ماحول کی باتوں سے خوف کھاتے ہیں، یہ ہمت نہیں پاتے کہ ماحول کے مخالف کوئی طرز زندگی اختیار کر سکیں اور سر اونچا کر کے ان لوگوں میں چل سکیں۔ہمیشہ یہ خوف دامنگیر رہتا ہے ، مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی کہ اگر ہم نے یہ کیا تو یہ لوگ کیا کہیں گے ، ہمارے متعلق کیا سمجھیں گے۔اگر ہم نے اسلامی لباس پہنا تو ان کو کیا محسوس ہوگا ، اگر یہ لوگ ننگے پھر رہے ہوں اور ہماری عورتوں نے برقعے اوڑھ لئے تو یہ ہمارے متعلق کیا سمجھیں گے کہ کون سی بلائیں آگئی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ پہلا خوف ہے جو تقویٰ کے مقابل پر انسانی زندگی میں راہ پاتا ہے اور مذہبی معاشروں کو تباہ کر دیا کرتا ہے۔جس طرح ایک تقویٰ خدا کا خوف ہے اسی طرح ایک تقوی دنیا کا خوف بھی ہوا کرتا ہے اور ان دونوں کے درمیان وہ جنگ ہے جو ہمیشہ جاری رہتی ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اللہ کی رضا کھو دینے کا خوف بہر حال ہماری زندگی پر غالب رہے گا۔یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے خوف سے بچائے جاتے ہیں اور کچھ وہ لوگ ہیں جن پر دنیا کی رضا کھو دینے کا خوف ہمیشہ غالب رہتا ہے وہ بظاہر نیک بھی ہوں، بظا ہر نمازیں پڑھنے والے بھی ہوں، بظاہر اعمال میں بڑے صاف دکھائی دیں اور لوگ ان پر اعتراض نہ کر سکیں لیکن عملاً وہ بازی ہار چکے ہوتے ہیں کیونکہ اصل لڑائی نظریات کی دنیا میں ہوا کرتی ہے۔پس یہ دو قسم کے خوف ہیں جن کے درمیان جدو جہد ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔وہی آزاد مرد ہے جو دنیا کے خوف سے آزاد ہوتا ہے۔جو دنیا کے خوف سے آزاد نہیں ہوتا وہ ہرگز آزاد نہیں۔اس نے آج نہیں تو کل لازماً دنیا کی غلامی اختیار کرنی ہے اس لئے میں دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے نفسوں کو دنیا کی آلائشوں سے آزاد کریں اور اپنے دلوں میں خدا کا خوف پیدا کریں اور خدا کے خوف کو اپنے اوپر غالب کر لیں۔اللہ کے پیار اور محبت کو اس طرح اپنی غذا اور اوڑھنا بچھونا بنالیں کہ غیر اللہ اس میں داخل نہ ہو سکیں۔اسی کا نام تقویٰ ہے، اسی کا نام توحید ہے، اسی کا نام زندگی ہے، اسی کا نام انسانی ضمیر کی آزادی ہے۔گو اسلامی اصطلاحوں میں ان چیزوں کے مختلف نام ہیں