خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 498
خطبات طاہر جلد ۲ 498 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء آپ کو دنیا کے ہر شر سے محفوظ رکھے گا اور لباس التقویٰ ہی ہے جو کبھی انسان کا لباس بنتا ہے اور کبھی اس کے لئے زاد راہ بن جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اسی تقویٰ کو زاد راہ بنا کر بھی دکھایا اور فرمایا تم تقویٰ کی زاد کو پکڑو۔یہی زادراہ ہے جو تمہارے کام آ سکے گا۔یہ تقویٰ ہی ہے جو آپ کی حفاظت کے لئے اندرونی غذا کا کام بھی دیتا ہے اور آپ کی حفاظت کے لئے بیرونی لباس کا بھی اور جتنا زیادہ ماحول مخالف ہوا تنا ہی زیادہ تقویٰ کی تلاش ہونی چاہئے۔یہ کیا چیز ہے؟ تقویٰ کس کو کہتے ہیں؟ تقویٰ کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان ہر فعل میں اور ہر سوچ میں اللہ کی طرف نگاہ ڈالنی سیکھ جائے اور یہ سوچنا شروع کرے کہ میں خدا کی خاطر زندہ ہوں۔تقویٰ کا ایک معنی خوف بھی ہے تقویٰ کا معنی ڈر بھی ہے۔لیکن وہ ڈرنہیں جو کسی جانور یا سانپ یا بچھو سے ہوتا ہے بلکہ تقویٰ ایسے خوف کو کہتے ہیں جو محبت کرنے والے کے پیار کو کھو دینے کا ڈر ہوتا ہے۔ہمیشہ یہ خطرہ دامن گیر ہو کہ میں کوئی ایسا فعل نہ کروں ، میری سوچ کوئی ایسی راہ اختیار نہ کرے کہ جس سے میرا پیارا اور محبوب خدا مجھ سے ناراض ہو جائے اس کا نام تقویٰ ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم یہ طرز فکر اختیار کرو گے تو دنیا کے پردہ پر جہاں بھی تم جاؤ گے یہ طرز فکر تمہاری زندگی کی حفاظت کرے گی تمہارا لباس بھی بن جائے گی تمہاری خوراک بھی ہو جائے گی اور پھر تم کسی غیر اللہ کے شر سے خوف کھانے کی فکر میں مبتلا نہیں ہو سکتے کبھی غیر کے شر کے خوف میں مبتلا نہیں ہو سکتے کیونکہ خدا کا خوف ہر دوسرے خوف پر غالب آ جاتا ہے تو گویا قرآن کریم کے نزدیک اگر تم چاہتے ہو کہ بے خوف زندگی بسر کرو تو صرف ایک راہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اختیار کرو اس کی رضا سے دور جانے سے ڈرو۔اس پہلو پر میں کچھ مزید مختصر سی روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔منہ سے یہ کہ دینا کہ تقویٰ خدا کی محبت کا نام ہے، تقویٰ خدا کی محبت کے کھو دینے کے ڈر کا نام ہے، انسان ہر وقت یہ خیال رکھے کہ میں اللہ کی راہ پر قائم رہوں اور خدا مجھ سے ناراض نہ ہو۔یہ منہ سے کہ دینا بظاہر آسان بات ہے لیکن عملی زندگی میں ہر روز اس قسم کے امتحانات پیش آتے ہیں کہ ہر انسان اگر ہوش کے ساتھ زندہ رہے تو وہ یہ محسوس کر سکتا ہے کہ میرا عقیدہ اور ہے اور میر اعمل اور ہے، میرا دعوئی اور ہے اور وہ زندگی جو میں نے اختیار کر لی ہے وہ اور ہے۔ہر روز آپ کے لئے ایسے مواقع پیش آتے ہیں ، مردوں کے لئے بھی اور عورتوں کے لئے بھی جہاں آپ خدا کی محبت کے