خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 500
خطبات طاہر جلد ۲ لیکن حقیقت ایک ہی رہتی ہے۔500 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء پس احمدیوں کے لئے بہت ہی اہم اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ وہ اس دنیا کے رعب سے آزاد ہو جا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کے لئے جو دعائیں کیں ان میں ایک چھوٹے سے مصرعے میں بہت ہی پیاری بات فرمائی۔آپ نے فرمایا: ع نہ آوے ان کے گھر تک رعب دجال (در شین صفحه ۴۸) کہ اے خدا ! میں یہ دعا کرتا ہوں کہ ان کے گھروں میں دجال کا رعب داخل نہ ہو کیونکہ ہمیشہ قو میں رعب سے مار کھا جایا کرتی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے فتح کا نسخہ عطا فر مایا اس میں یہی رعب کا لفظ استعمال فرمایا۔فرمایا: نُصْرِتُ بالرعب ( تذكره صفحه ۵۶۶ - الهام ۲۱ اگست ۱۹۰۶) کہ اے مسیح! تو دنیا میں یہ اعلان کر سکتا ہے کہ مجھے بھی ایک رعب عطا کیا گیا ہے اور میں اس رعب کے ذریعہ سے دنیا پر غالب آؤں گا۔پس احمدی اگر اپنے معاشرہ میں اپنا رعب نہیں رکھتے ، اگر ان کو یہ یقین نہیں ہے کہ ہم ایک زندہ معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں جو دنیا پر غالب آنے والا ہے، اگر وہ پوری طرح پر اعتماد نہیں ہیں کہ جن قدروں کو لے کر ہم چل رہے ہیں یہ اچھی اور بہتر قدریں ہیں اور دنیا کی قدروں سے بہت بالا ہیں تو اگر وہ یہ نہیں کر سکتے تو وہیں وہ بازی ہار دیتے ہیں۔پھر لاشے پھرتے ہیں اور خالی جسم نظر آتے ہیں آج نہیں تو کل دن بدن ان پر موت کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے اس لئے اس بات کی طرف میں بار بار توجہ دلاتا ہوں کہ آپ اپنے نفسوں کی فکر کریں، اپنی طرز فکر کی فکر کریں۔یہ ایک لمحہ آپ کی زندگی کے فیصلہ کو زندوں میں بھی داخل کر سکتا ہے اور غلط فیصلہ کے نتیجہ میں مردوں میں بھی داخل کر سکتا ہے۔آپ کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم کس کی خاطر جئیں گے۔کیا ہم اس بات کی خاطر جئیں گے کہ ہمارا خدا ہم سے راضی رہے یا اس بات کی خاطر جئیں گے کہ جہاں ہم جائیں وہاں کے لوگ ہم سے راضی رہیں۔اس دوسری قسم کی سوچ کے لوگ تو پھر بہروپئے بن جاتے ہیں ، جہاں گئے وہیں کے ہو کر رہ گئے ، جس قوم میں داخل ہوئے ویسے بن گئے۔جب یہ لوگ واپس اپنے معاشرہ میں آتے ہیں تو رفتہ رفتہ نیک بھی نظر آنے لگ جاتے ہیں ، ان کے رنگ بدلتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کہیں کے بھی نہیں ہوتے کیونکہ ان کے اندر ایک بنیادی کمزوری ہوتی ہے۔ان کے اندر کوئی