خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 497

خطبات طاہر جلد ۲ 497 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء ہوتے ہیں، تیسرا رد عمل ہمیں کوئی نظر نہیں آتا۔یا تو یہ نظر آتا ہے کہ زندگی نے غیر معمولی کوشش کی اور موت پر غالب آ گئی اور یا پھر زندگی موت کا شکار ہو گئی اور یہی وہ دورد عمل ہیں جو انسانی نظریات کی جنگ میں ہمیں نظر آتے ہیں۔پس جب احمدی دوست اس دور دراز بر اعظم میں آئے اور یہاں رہنے کا فیصلہ کیا تو ان کو کھل کر یہ بات نظر آنی چاہئے تھی کہ اگر انہوں نے غیر معمولی جدوجہد کے بغیر یہاں رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو پھر اس بات پر بھی ان کو تیار ہو جانا چاہئے کہ وہ اگلی نسلوں کو اپنے ہاتھ سے کھو دیں گے اور رفتہ رفتہ اسی ماحول کا شکار ہو کر انہی لوگوں میں سے ہو کر رہ جائیں گے یا اس کے برعکس انہیں عام حالات کی نسبت زیادہ ذمہ داری زیادہ کوشش اور زیادہ جدو جہد کے ساتھ زندہ رہنا ہوگا۔گرمی کا موسم ہو تو انسان کا گزارہ عام کپڑوں میں ہو جاتا ہے۔گرمی کے موسم میں بغیر کپڑوں کے بھی انسان اپنے جسم کی حرارت کو محفوظ رکھ سکتا ہے بلکہ وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ یہ حرارت کسی اور ذریعہ سے جسم سے نکلنی شروع ہو جائے تاکہ گرمی کا احساس کم ہو لیکن اگر آپ North Pole یا South Pole قطب شمالی یا قطب جنوبی) کے برفانی علاقوں میں چلے جائیں تو ننگے جسم کا تو سوال کیا عام سردیوں کے موسم میں بھی جو کپڑے پہنے جاتے ہیں وہ کافی نہیں ہوا کرتے۔وہاں زندگی کی جدو جہد کے لئے کچھ مزید چیزوں کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔اندرونی طور پر گرمی پیدا کرنے کے لئے خاص غذاؤں کی ضرورت پڑتی ہے، بیرونی طور پر موسم سے حفاظت کے لئے غیر معمولی لباس کی ضروریات پڑتی ہے، میری مراد یہ ہے کہ موسم میں جتنی زیادہ خنکی پیدا ہو اتنی جد و جہد بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے اگر ایسا نہیں کریں گے تو پھر زندگی کی توقع لے کر بیٹھنا محض حماقت ہے۔پس جتنا زیادہ دہریانہ ماحول ہو، جتنی زیادہ دنیا پرستی ہو اتنا ہی احمدی کو کسی لباس کی تلاش کرنی چاہئے۔اس لباس کے بغیر وہ اس ماحول کی موت کی سردی سے بچ نہیں سکتا۔وہ کون سا لباس ہے جو اس کو بچا سکتا ہے؟ قرآن کریم نے اس لباس کا نام لیا اور فرمایا: وَلِبَاسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ (الاعراف: ۲۷) ایک ہی لباس ہے اور وہ تقویٰ کا لباس ہے جو مادہ پرستی کے سردخانوں میں بھی آپ کو زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے۔دنیا کے پردے پر آپ کہیں بھی چلے جائیں وہ آپ کی حفاظت کرے گا اور