خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 496
خطبات طاہر جلد ۲ 496 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ء کے ساتھ اندازہ نہیں تھا جتنا اب ہوا ہے۔چنانچہ یہاں آ کر ان کا معاشرہ دیکھا، ان سے گفتگو کا موقع ملا تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ دنیا کے کسی ملک میں بھی سوائے سکنڈے نیوین میں سے بعض ملکوں کے، اتنی زیادہ دہریت اور مادہ پرستی نہیں پائی جاتی۔اس ملک میں جو احمدی موجود ہیں ان کی بھی کسمپرسی کی حالت ہے، مرکز سے دوری، احمد یہ مشن کا نہ ہونا اور تعداد کی کمی، یہ سارے ایسے محرکات ہیں جنہوں نے ان پر بداثر ڈالا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے باوجود خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں ایسے مخلصین موجود ہیں ، مرد بھی اور عورتیں بھی ، جنہوں نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اس معاشرہ پر غالب آئیں گے اور ان کے کردار میں خدا تعالیٰ کے فضل سے زندگی کے آثار نظر آتے ہیں لیکن بالعموم یہ کہنا درست ہے کہ جماعت کو اس ملک میں جس شان کے ساتھ دیکھنے کی میں توقع رکھتا ہوں وہ پوری نہیں ہوئی۔امر واقعہ یہ ہے کہ ان حالات میں دو قسم کے ہی رد عمل ہو سکتے تھے اور ہو سکتے ہیں۔ایک رد عمل ہے حد سے زیادہ دہر بیت اور مادہ پرستی کے سمندر میں ڈوب کر اس سے مرعوب ہو جانے کا اور رفتہ رفتہ ان قدروں سے دور چلے جانے کا جن کو لے کر ہم اپنے ملکوں میں یہاں آئے تھے۔اور دوسرار د عمل ہے اس کے مقابل پر اور زیادہ بختی اختیار کرنے کا، بے چینی محسوس کرنے کا ،فکر محسوس کرنے کا اور وہ رستے تلاش کرنے کا جن پر چل کر ہم ان کے بداثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔یہ دوسرار د عمل جس قوت کے ساتھ نظر آنا چاہئے تھا اس قوت سے یہاں نظر نہیں آ رہا۔امر واقعہ یہ ہے کہ قانون قدرت کو بھلا کر دنیا کی کوئی قوم بھی درحقیقت زندہ نہیں رہ سکتی، قانون قدرت کو نظر انداز کر کے دنیا کی کوئی چیز بھی غالب آنے کا دعوی ہی نہیں کر سکتی کجا یہ کہ وہ زندہ رہ سکے۔انسانوں کی زندگی کو دیکھئے یا حیوانوں کی زندگی کو دیکھئے، وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں اور ہمیشہ دو طرح سے متاثر ہوتے ہیں۔بعض حیوانات کو مخالف حالات مٹا دیتے ہیں اور نابود کر دیتے ہیں ، بعض حیوانات میں ایک رد عمل پیدا ہوتا ہے اور وہ ان حالات پر غالب آنے کی کوشش کرتے ہیں اور قانون قدرت انہیں وہ نئے وسائل عطا کر دیتا ہے، نئے ذرائع انہیں میسر آ جاتے ہیں جن سے وہ پیش آمدہ حالات کا بہتر رنگ میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔یہی ہے خلاصہ اس سارے انسانی یا حیوانی ارتقا کا جس میں زندگی کی موت کے ساتھ ایک مسلسل جد و جہد نظر آتی ہے اور دو ہی طرح کے رد عمل ظاہر