خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 478
خطبات طاہر جلد ۲ 478 خطبه جمعه ۱۹ ستمبر ۱۹۸۳ء قدم اس کی طرف جاتا ہے تو وہ دوڑتا ہوا اس کی طرف بڑھتا ہے۔( بخاری کتاب التوحید باب قول الله و يحذركم الله نفسه) پس در اصل یہ مضمون ہی وہی رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ والا مضمون ہے جس کی تفسیر آنحضرت ﷺ فرمارہے ہیں۔پس اب اس سارے مضمون کو سمجھ لینے کے بعد کسی احمدی کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہتا کہ وہ تبلیغ سے باز رہے یا اپنے آپ کو کمزور سمجھے یا کم علم سمجھے۔شرط اول یہ ہے کہ وہ خدا کا ہو جائے۔باقی ساری شرطیں خدا دیکھے گا کہ کس طرح پوری کرنی ہیں۔وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور ہم اپنے کام سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اس لئے میں شدید فکر لے کر اس دورہ پر نکلا ہوں اور یہ دعا کرتے ہوئے نکلا ہوں کہ اے خدا! تو ہی اپنے فضل سے میرے الفاظ میں طاقت رکھ دے۔میں نے دعا کی کہ اے خدا! تو میری آواز کو ہر احمدی کی آواز بنا دے اور اے خدا!! میرے دل کی ہر دھڑکن ہر احمدی کو عطا فرما اور ہر سینے میں اپنے دین کی خدمت کی ایک آگ لگا دے۔وہ ہر طرف سے اس روشنی کی طرف بلائے جو محمد رسول ﷺ کی روشنی ہے۔اور جس طرح پر وانے آگوں کو جلتا ہوا دیکھتے اور بے تحاشا اس طرف دوڑتے اور اڑتے ہوئے وہاں پہنچتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ جل جائیں گے اسی طرح دنیا محبت سے مجبور ہو کر بے اختیار اس روشنی کی طرف لپکے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ عے جے تو میرا ہو ر ہیں سب جگ تیرا ہو یہ خدا کا کلام ہے اور اگر آپ اس کو آزما کر دیکھیں گے تو یقیناً ہمیشہ اس کو سچا ہوتا دیکھیں گے۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۵ رستمبر ۱۹۸۳ء)