خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 479
خطبات طاہر جلد ۲ 479 خطبه جمعه ۲۳/ ستمبر ۱۹۸۳ء اسلام میں توحید کا عظیم الشان تصور (خطبه جمعه فرموده ۲۳/ستمبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد فضل ،سووا (Suva) نجی) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اسلام میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا جو تصور ہے وہ کوئی ایسا تصور نہیں جس کا آسمانوں سے تعلق ہو اور انسانی زندگی سے اس کا واسطہ نہ ہو۔اسلام جس توحید کا تصور پیش کرتا ہے اور جس کا قرآن کریم میں بار بار ذکر آتا ہے وہ کوئی خیالی تو حید نہیں کہ محض خدا کو ایک مان لیا جائے بلکہ اس کے دو گہرے اثرات پھر دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور ہم ان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔توحید کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر خدا ایک ہے تو اس کی ساری کائنات میں بھی وحدت ہی نظر آئے گی اور اس میں کسی دوسرے وجود کا کوئی اشارہ بھی تمہیں نظر نہیں آئے گا، کوئی ٹکراؤ نظر نہیں آئے گا ، ایک کامل نظام ہے جو ایک دوسرے سے تعاون کرتا ہوا دکھائی دے گا۔چنانچہ آسمان سے بڑے بڑے وجودوں سے لے کر زمین کے چھوٹے چھوٹے ذرہ تک (جس کے دل میں پوری طرح اترنے کی بھی ابھی تک انسان کو پوری طاقت نصیب نہیں ہوئی اور اس سے بھی چھوٹے ذرے وہ دریافت کرتا چلا جا رہا ہے ) سارے نظامِ عالم میں آپ کو تو حید نظر آئے گی۔ایک ایسی کامل وحدت کہ وہ مطالعہ کرنے والوں کو کو حیران کر دیتی ہے ، ان لوگوں کو جو علم رکھتے ہیں۔توحید کا دوسرا تصور مسلمان کی زندگی میں ملتا ہے اور ان اعمال سے ان کا تعلق ہے جو مسلمان بجالاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ایک موحد سوسائٹی اور ایک ایسا معاشرہ عمل میں آتا ہے جس