خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 477
خطبات طاہر جلد ۲ 477 خطبه جمعه ۹ر ستمبر ۱۹۸۳ء محمد رسول ﷺ نے اس اینچی کو جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ جاؤ اس گورنر کو بتا دو کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو قتل کر دیا ہے۔پس وہ یہی جواب لے کر واپس پہنچا تو یمن میں کچھ عرصہ کے بعد وہاں شہنشاہ کسریٰ کی طرف سے سفیر آیا اور پرانے کسریٰ کا بیٹا اس وقت تک کسری بن چکا تھا اور اس نے یہ پیغام بھیجا کہ ہم نے اپنے باپ کے مظالم اور گندگیوں کی وجہ سے اس کو قتل کر دیا ہے اور اب ہم شہنشاہ بنائے گئے ہیں ( تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۹۲۶۔تاریخ انمیں جلد ۲ صفحہ ۳۶)۔پس جب خدا کسی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس میں عبرت کا یہ پہلو ہوتا ہے کہ اس ہلاکت میں ایک غیر معمولی ذلت بھی پائی جاتی ہے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو بھی اپنی نصرت اور اپنے پیار کے غیر معمولی نشان دکھائے ہیں اس لئے آپ کے لئے اس غیب پر ایمان لا نا کوئی مشکل نہیں جو بار ہا آپ کے لئے حاضر بن چکا ہے۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنے دل کو اپنے رب کے لئے صاف کریں، اسے اپنے دل میں حاضر ہونے کے لئے درخواست کریں، دعوت دیں جس طرح ایک بڑے آدمی کو دعوت دی جاتی ہے لیکن یہ ایک ایسی بڑی ہستی ہے کہ جو اپنی عظمت کے باوجود ادنیٰ سے ادنی دل میں اترنے کے لئے تیار بیٹھی ہے اس لئے انسان کی کوئی عاجزی اس کا کوئی انکسار اس راہ میں حائل نہیں ہوسکتا کہ میں اس عظیم الشان ذات کو اپنے پاس آنے کی کیسے دعوت دوں جو میرے مقابل پر اتنی عظمت رکھتا ہے کہ کوئی نسبت ہی قائم نہیں ہو سکتی۔اس بات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دل کی عظمت دراصل دل کے حوصلے کی عظمت اور دل کی وسعت کی عظمت ہی ہوا کرتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کی اصل شان یہ ہے کہ وہ تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہونے کے باوجود اتنا وسیع حوصلہ رکھتا ہے کہ فرماتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ (الاعراف: ۱۵۷) کہ میری رحمت ہر دوسری چیز پر حاوی ہوگئی ہے۔میری عظمتوں سے بالا ہے میری رحمت اور میری شفقت۔پس آپ نے اس خدا کو بلانا ہے جس کا اعلان ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ وہ تو آپ سے بڑھ کر آپ کے پاس آنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے خدا کو بلانے کا جو تجربہ کیا اس کو اپنے ان پیارے الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ بندہ جب خدا کی طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو خدا تعالیٰ کئی قدم اس کی طرف بڑھ جاتا ہے اور جب انسان قدم