خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 468

خطبات طاہر جلد ۲ 468 خطبه جمعه ۹ ر ستمبر ۱۹۸۳ء انہیں خدا کا کوئی واضح تصور عطا نہیں کیا۔چنانچہ چند سال قبل جاپان کی مسلم ایسوسی ایشن کے بعض عہد یداروں سے میری ملاقات ہوئی تو دوران گفتگو یہ بات کھل کر میرے سامنے آئی کہ ان کو اسلام سے زیادہ ان علاقوں میں دلچسپی ہے جہاں مسلمان قابض ہیں اور تیل دریافت ہو چکا ہے چنانچہ ان لوگوں نے محض نام تبدیل کئے اور اسلام کو گہرائی سے سمجھے بغیر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔جس خطرہ کی میں نے نشاندہی کی تھی کہ اس میں فوائد سے زیادہ خطرہ نظر آتا ہے وہ خطرہ یہ ہے کہ چونکہ وہ اسلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکے اس لئے مسلمان کہلانے کے باوجود مذہب اسلام کو نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتے ہیں۔چنانچہ اس کے دو ثبوت مجھے ان جاپانی مسلمانوں سے گفتگو کے دوران یہ ملے کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ اسلام میں جو شراب حرام ہے وہ جاپان کے حالات کی رو سے حرام نہیں ہے اس لئے ہماری مسلم ایسوسی ایشن نے باقاعدہ فتویٰ شائع کر دیا ہے کہ جاپان میں مسلمانوں کے لئے شراب پینا جائز ہے کیونکہ جن حالات میں منع ہے جاپانی قوم پر وہ اطلاق نہیں پاتے۔اسی طرح سور کھانا بھی جاپان کے مسلمانوں کے لئے جائز ہے کیونکہ یہ بہت صاف ستھرا جانور ہے اسے اچھی طرح حفاظت سے پال کر ذبح کیا جاتا ہے۔تو جا پانی حالات میں شراب بھی حلال ہوگئی اور سور کا گوشت بھی حلال ہو گیا اسی طرح دیگر اسلامی احکامات میں بھی ان لوگوں کا دخل دینا بعید از قیاس نہیں ہے بلکہ جہاں تک عبادات کا تعلق ہے عملاً وہ یہی سمجھتے ہیں کہ کبھی شوقیہ کوئی نماز پڑھ لی جائے تو یہی بہت کافی ہے اور جہاں تک روزوں کا تعلق ہے بعض ایسے مسلمانوں سے جب میں نے پتہ کیا تو انہوں نے کہا ہم ایک آدھ روزہ رکھ لیتے ہیں اس سے زیادہ روزہ اس زمانہ میں نہیں رکھا جا سکتا۔تو گویا ایسا اسلام قبول کیا جا رہا ہے جو ان کے نزدیک نہ صرف مختلف قوموں کے لئے مختلف شکلیں اختیار کر جاتا ہے بلکہ مختلف زمانوں سے الگ الگ سلوک کرتا ہے۔پس اگر چہ عیسائیت کو قبول کرنے اور اسلام کو قبول کرنے کی بنیادی وجہ بظاہر ایک ہی نظر آتی ہے لیکن عیسائیت کو کوئی خطرہ نہیں اور اسلام کو خطرہ ہے۔عیسائیت کو اس لئے خطرہ نہیں کہ عیسائیت تو پہلے ہی جتنا بگڑ سکتی تھی بگڑ چکی ہے۔اس میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو ہوسکتا ہے اصلاح ہو جائے اس میں مزید بگاڑ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے یہی حقیقت ظاہر کی ہے کہ عیسائیت میں فی زمانہ ہونے والی تبدیلیوں نے عیسائیت کے چہرے مہرے کو پہلے سے بہتر کیا