خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 467
خطبات طاہر جلد ۲ 467 خطبه جمعه ۹ ستمبر ۱۹۸۳ء یہ خواب حیرت انگیز طور پر پوری ہوئی کیونکہ ان کے اس خط کے ملنے سے پہلے ہی ہمیں یہ اطلاع مل گئی تھی کہ ہمیں انڈونیشیا جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ فیصلہ بھی کیا جا چکا تھا کہ انشاء اللہ سنگا پور میں انڈونیشیا کے دوستوں کو بلا کر وہاں ان سے مشورہ کر کے آئندہ کے پروگرام بنائیں گے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں انڈونیشیا کو بھی جہاں تک اس دورے کے فوائد کا تعلق ہے شامل فرمالیا گیا ہے۔بالکل اسی مضمون کی خواب اللہ تعالیٰ نے ایک اور ایسے شخص کو دکھائی جس کا ہمارے خاندان سے تو کوئی تعلق نہیں اور ویسے بھی جماعت میں وہ کوئی معروف آدمی نہیں ہیں ، ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں ان کا وہم بھی نہیں جا سکتا تھا انڈونیشیا کی طرف اور اس طرف کہ انڈونیشیا جانے کا پروگرام ہو اور وہاں جانے کی توفیق نہ ملے۔بہر حال اس دورے کی اہمیت کے پیش نظر میں چند امور آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔یہ وہ علاقے ہیں جو بعض پہلوؤں سے بہت ہی بد قسمت ہیں کیونکہ اسلام کو اگر چہ ایک زمانہ میں یہاں نفوذ کی توفیق ملی لیکن کئی سو سال سے یہ تاریخ بن رہی ہے کہ بدھسٹ عیسائیت تو قبول کر رہے ہیں لیکن اسلام کی طرف مائل نہیں ہو رہے۔اسی طرح کنفیوشس کے ماننے والے اور تاؤ ازم کے مقلدین کو بھی اگر چہ عیسائیت کی طرف توجہ ہو رہی ہے لیکن انہوں نے ابھی تک اسلام کی طرف وسیع پیمانے پر توجہ نہیں شروع کی۔گزشتہ چند سالوں سے اس طرز عمل میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے لیکن وہ بھی بعض پہلوؤں کے لحاظ سے اتنی خوشکن نہیں جتنی کہ وہ اپنے اندر بعض خطر ناک پہلو رکھتی ہے اور یہ دونوں تاریخی عمل یعنی سب سے پہلے ان قوموں کا عیسائیت کی طرف مائل ہونا اور گزشتہ چند سال سے اسلام میں دلچسپی لینا بنیادی طور پر ایک ہی نفسیاتی توجہ کو ظاہر کر رہے ہیں۔وہ وجہ یہ ہے کہ عیسائیت میں بھی ان کی دلچسپی در اصل مادہ پرستی میں دلچپسی کا نتیجہ تھی اور عیسائیت کو چونکہ انہوں نے ایک وسیع طاقتور قوم کے طور پر دیکھا جس سے ان کے مالی اور سیاسی مقاصد وابستہ ہو سکتے تھے اور فوائد پہنچ سکتے تھے اس لئے حقیقت میں انہوں نے کسی مذہب کو قبول نہیں کیا بلکہ ایک متمول سیاسی قوم کے اثر کو قبول کیا ہے۔چنانچہ یہی دنیا داری کا رجحان اب ان کو اسلام میں دلچسپی لینے پر مجبور کر رہا ہے کیونکہ تیل کی دولت نے سب دنیا کی توجہ مشرق وسطی کی طرف کھینچی ہے اور اس سے استفادہ کرنے کے لئے بعض ایسی قومیں توجہ کر رہی ہیں جو دراصل مادیت میں دلچسپی رکھتی ہیں کیونکہ ان کے سابقہ مذاہب نے بھی