خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 469

خطبات طاہر جلد ۲ 469 خطبه جمعه ۱۹ ستمبر ۱۹۸۳ء ہے بگاڑا نہیں۔مثلاً طلاق کا مضمون ہے، آج سے چند سو سال پہلے تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ عیسائی دنیا طلاق کی اجازت دے گی ، اسی طرح اگر عورت کی صحت اجازت نہ دے تو اسلام اس بات سے منع نہیں کرتا کہ بچے کو ضائع کر دیا جائے کیونکہ جو زندگی ماں کی ہے وہ بچے کے مقابل پر زیادہ عزیز ہے لیکن عیسائی اس کے قائل نہیں تھے۔گزشتہ ایک دو سو سال کے اندر اندر یہ نمایاں تبدیلی بھی ہمیں نظر آ رہی ہے کہ اب عیسائی دنیا اس کو جائز سمجھنے لگی ہے۔سوائے ایک دو ملکوں کے باقی سب عیسائی فرقے اور مختلف ملکوں کے عیسائی اس کو جائز قرار دینے لگے ہیں۔پس ایک بیمار اور نیم جان اور نیم مردہ مذہب میں اگر کوئی تبدیلیاں کی جائیں تو اس کو فائدہ ہی بخشتی ہیں اس کی مزید موت کا کوئی خطرہ نہیں بنتیں لیکن ایک زندہ مذہب اس بات کا متحمل نہیں ہوتا کہ اس میں تبدیلیاں کی جائیں۔پس عیسائیت کو نہ صرف کوئی خطرہ نہیں بلکہ فوائد بھی حاصل ہوئے کیونکہ ان کے مقصد دنیاوی تھے۔اس وقت عیسائی دنیا جہاں جہاں بھی تبلیغ کر رہی ہے اس کے پیچھے مغرب کے سیاسی اثر کو وسیع کرنا اور بڑی طاقت اور مضبوطی کے ساتھ وہاں مغربی تہذیب کے قدم جمانا یہ دو بنیادی مقاصد کارفرما ہیں اور یہ دونوں مقاصد ان کو عیسائیت کی قربانی دیئے بغیر حاصل ہو جاتے ہیں لیکن اسلام کو تو کسی سیاسی عروج میں دلچسپی نہیں۔یہ تو انسان کی روحانی زندگی میں دلچسپی رکھتا ہے اور بندہ کے خدا سے تعلق میں دلچسپی رکھتا ہے اس لئے ایسی قوموں میں اسلام کا نفوذ جو اسلام کو بگاڑنے لگ جائیں اور ان کے لئے نگرانی کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یہ محض نقصان کا سودا ہے اس سے اسلام کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پس ہمیں تو اسلام سے سچی محبت اور پیار ہے ہم کہیں بھی اس صورت میں اسلام کا آنا پسند نہیں کرتے کہ اس کا ہاتھ نعوذ باللہ طاغوتی طاقتوں نے پکڑا ہو اور بعض غیر اسلامی قدریں لے کر وہ کسی ملک میں داخل ہو۔پس اس پہلو سے احمدیت کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔نام کے اسلام سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہمیں تو حقیقت اسلام میں دلچسپی ہے اور نہ صرف یہ کہ نئی قوموں کو ہم نے سچا اسلام دینا ہے بلکہ ان لوگوں کو جو اسلام کا غلط تصور لے رہے ہیں یا اسلام میں بگاڑ پیدا کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے اور کوئی ان کے ہاتھ روک نہیں رہا ان کی اصلاح کرنا بھی اب جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے۔یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے مقابل پر جو ہمیں ظاہری توفیق حاصل