خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 458
خطبات طاہر جلد ۲ 458 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء متعلق دعا کی گئی تھی۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے ، وَيُزَ كَيْهِمْ اور ان کا تزکیہ کرتا ہے۔یہاں تزکیہ جوحضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے آخر پر رکھا تھا اللہ تعالیٰ اس کو پہلے لے آیا۔پہلے پاک کرتا ہے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ الجمعة (۳) پھر تعلیم کتاب دیتا ہے پھر ان کو حکمتیں بتاتا ہے۔اگر آپ غور کریں تو اس میں اللہ تعالیٰ نے صرف ترتیب بدلنے سے حیرت انگیز اصلاح فرمائی ہے اور اسلام کی شان کی طرف بھی روشنی ڈال دی کہ کتنا عظیم الشان مذہب ہے جو اب ظاہر ہونے والا ہے۔پہلے مذاہب کی انتہا ہوا کرتی تھی تزکیہ ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مذاہب کا جو دستور دیکھا تھا جو تاریخ ان کے سامنے کھلی تھی اس سے انہوں نے یہی سمجھا کہ انبیاء ہمیشہ پہلے تعلیم دیتے ہیں، حکمتیں سکھاتے ہیں پھر اس کے نتیجہ میں تزکیہ ہوتا ہے اور تزکیہ مقصود ہے یہ آخری خبر ہے۔خدا تعالیٰ نے بتایا کہ اب دنیا میں ایک اور مذہب آنے والا ہے یہ مزکیوں کو اٹھائے گا اور مزید بلند تر مقامات پر لے جائے گا۔اس سکول میں داخل ہونے کے لئے ڈگری زیادہ اونچی ہونی چاہئے۔جس طرح ابتدائی سکول میں پرائمری کے لئے اور قابلیت کی ضرورت ہوا کرتی ہے، ہائی سکول کے لئے اور ضرورت ہوتی ہے اور ڈگریوں کے لئے اور ضرورت ہوتی ہے۔پس اس ترتیب نے مذہب اسلام کا مقام بہت بلند کر دیا۔خدا نے فرمایا نہیں اب تو تزکیہ والے لوگ ہی یہاں داخل ہو سکیں گے ، وہی فائدہ اٹھائیں گے گندے اور نا پاک لوگوں کے لئے یہاں جگہ ہی کوئی نہیں۔پہلے تزکیہ ہوگا پھر تم اس لائق ہو گے کہ اسلام کی باتیں سمجھو۔تزکیہ کے بغیر نہ اس کی تعلیم سمجھ میں آتی ہے ، نہ اس کی حکمتیں معلوم کر سکو گے اور بعینہ یہی وہ مضمون ہے جس سے قرآن کریم کا آغاز ہورہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے یہ کسی بندہ کا کلام نہیں۔آیات کے درمیان اتنا گہرا اور اتنا مضبوط ربط ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پہلے تو رسول کا تعارف تھا اب کتاب کا تعارف سنے۔فرمایاذ لك الكتب یہ وہی کتاب ہے جس طرح فرمایا یہ وہی رسول ہے جس کے لئے دعا کی گئی تھی اسی طرح فرمایا یہ وہی کتاب ہے جس نے آنا تھا۔لَا رَيْبَ فِيهِ اس میں کوئی شک نہیں۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرہ:۳۰) لیکن یہ وہ ہدایت نہیں ہے جو غیر متقی کو بھی مل سکے۔تزکیہ والے لوگ اور متقی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں فرمایا اس کتاب سے استفادہ کے لئے تقویٰ شرط ہے یعنی پہلے تزکیہ