خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد ۲ 455 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء ہیں ( تاریخ الامم والملوک ( تاریخ طبری) باب ذکر امر بناء البيت جلد )۔اس وقت اس کو ٹال دینے میں بہت بڑی حکمت تھی بلکہ ایک سے زائد حکمتیں تھیں۔ایک تو یہی کہ آپ کے جس بیٹے کی نسل سے حضرت محمد مصطفی علی نے پیدا ہونا تھا اور جس نے اس شاخ کو بنو اسحاق سے ممتاز کر دینا تھا وہ بیٹا ابھی اس قابل نہیں تھا کہ اس گھر کی تعمیر میں حصہ لے سکے۔دوسرے ایسی وادی میں چھوڑ کر جارہے تھے جہاں نہ پانی کا انتظام تھا اور نہ کھانے کا اور اللہ تعالیٰ یہ خبر دے چکا تھا کہ میں نے تم سے ایک گھر بنوانا ہے اور گھر ابھی بنوایا نہیں تھا ، اس سے بڑی زندگی کی کوئی اور ضمانت نہیں ہو سکتی تھی اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو اس سے زیادہ تسلی نہیں دی جا سکتی تھی کہ جب تک تم دوبارہ نہ آؤ اور ( آپ وہاں بار بار آئے ) جب تک اسمعیل اس قابل نہ ہو کہ تمہارے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کرے اس وقت تک ان کو کوئی فکر نہیں۔خدا تعالیٰ کے پیار کا کیسا عظیم الشان سلوک تھا اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا تو کل بھی کتنا عظیم الشان تھا کہ اس حالت میں بیوی اور بچے کو چھوڑ کر جارہے ہیں اور پھر بیوی کی ایمانی کیفیت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جب وہ ان کو چھوڑ کر جانے لگے تو اچانک رخصت ہوئے اور ایک طرف کا رخ اختیار کر لیا۔بیوی اور بچہ وہیں پڑے ہوئے تھے ان کو پانی کا ایک مشکیزہ دے گئے اور کچھ کھجوریں چھوڑ گئے۔حضرت ہاجرہ کو محسوس ہوا کہ یہ تو ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔انہوں نے آواز میں دیں لیکن حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہ دیا۔پھر بے قرار ہو کر پیچھے دوڑیں لیکن آپ کی آواز شدت غم سے بھرا گئی۔آنکھوں میں آنسو آ رہے تھے، ڈرتے تھے کہ اگر بات کروں گا تو رو پڑوں گا۔آپ اس موقع پر پورا صبر کرنا چاہتے تھے اس لئے آپ جواب نہیں دیتے تھے اور نہ مڑ کر دیکھتے تھے۔آخر حضرت ہاجرہ نے صرف ایک سوال کیا۔انہوں نے کہا مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ کیا خدا کی خاطر ایسا کر رہے ہیں؟ کیا اللہ کا حکم ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر میں راضی ہو جاؤں گی پھر مجھے کوئی پرواہ نہیں۔( تاریخ الام والملوک ( تاریخ طبری) باب ذکر امر بناء البیت جلدا) اس سوال میں بڑی عجیب بات تھی۔اس میں عورت کی فطرت کا ایک خاص راز تھا۔حضرت ہاجرہ حضرت سارہ پر سوکن بن کر آئی تھیں اور آپ کو پتہ تھا کہ حضرت سارہ ان کو پسند نہیں کرتیں اور کئی دفعہ ابراہیم علیہ السلام کو کہہ چکی ہیں کہ اس کو گھر سے نکال دو۔یہ وہ بے قراری تھی جوان کے دل کو لگی ہوئی تھی کہ مجھے یہ بتادیں کہ میرے خدا کی خاطر ایسا کر رہے ہیں یا سوکن کی خاطر کر رہے