خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 456

خطبات طاہر جلد ۲ 456 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء ہیں؟ اگر خدا کی خاطر ہے تو مجھے ٹھنڈ پڑ جائے گی چاہے میں یہاں پیاس کے مارے تڑپ تڑپ کر جان دے دوں اور اگر میری سوکن کی خاطر ہے تو پھر تو بے قراری کی آگ اور بھی زیادہ بڑھے گی۔ایک آپ کو چھوڑنے کا دکھ ، ایک ان حالات کا دکھ اور اوپر سے یہ سوتا پا کہ ایک بیوی کی خاطر دوسری بیوی کو یہ چھوڑ کر جارہے ہیں۔جب انہوں نے یہ کہا کہ کیا خدا کی خاطر چھوڑ کر جارہے ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور سر ہلایا پھر حضرت ہاجرہ بڑے اطمینان سے آکر اسماعیل کے پاس بیٹھ گئیں۔یہ ہے اس گھر کے پاس آباد کرنے کا آغاز اور اس وقت کی جو دعائیں ہیں ان میں کسی شہر کا ذکر نہیں ملتا۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے رب سے عرض کرتے ہیں رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا اے خدا! اس جگہ کو بَلَدًا امنا بنا دے۔معلوم ہوتا ہے اس وقت وہاں کسی کی جھونپڑی تک نہ تھی۔کھلا صحرا تھا جس میں نہ کوئی درخت تھا نہ کوئی سایہ۔وہی ایک Mound یعنی چھوٹا سائیلہ بن گیا تھا ایک کھنڈر کے اوپر بس یہی ایک اونچی جگہ تھی اور دعا سے پتہ چل رہا ہے کہ وہاں کچھ نہیں تھا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائی تھی: رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا أَمِنًا) البقرة: ١٢٧) دعا اے خدا! تو اس چٹیل جگہ کو ایسے شہر میں تبدیل فرما دے جو امن کی جگہ ہو۔جب تعمیر نو کی ہے تو اس وقت تو شہر بن چکا تھا اس عرصہ میں۔پھر جب وہ دوبارہ آئے ہیں تو وہاں جرہم قبیلے کا ایک قافلہ آباد ہو چکا تھا اور کچھ اور لوگوں نے بھی گھر بنا لئے تھے۔جب آکر دیکھا تو نقشہ بدلا ہوا تھا۔ایک بیوی اور بچے کی بجائے ایک پورا قبیلہ وہاں آباد ہوگیا تھا۔وہاں جو دعا کی ہے وہ یہ ہے: رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ امِنَّا (ابراهيم: ٣٦) اے خدا اس شہر کو جو یہاں آباد ہو چکا ہے امن کی جگہ بنا دے۔ایک لمبے عرصہ تک رابطہ رہا اور جب حضرت اسمعیل دوڑنے پھرنے کے قابل ہوئے تو دو واقعات یہاں گزرے ہیں، ایک خدا کے پہلے گھر کی تعمیر نو جس میں دونوں باپ بیٹے نے حصہ لیا اور دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی۔پس خدا کے گھر بنانے سے پہلے جو پس منظر ہے وہ سوچئے کتنا دردناک ہے اور کتنا عظیم الشان ہے، کتنے گہرے محبت اور عشق کے جذبات ہیں جو اللہ اور بندے کے درمیان چل رہے ہیں اور پھر اس گھر کی تعمیر ہورہی ہے اور بظاہر یہ گھر اتنا معمولی ہے کہ باپ بیٹے نے مل کر چند پتھر رکھے ہیں