خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 454

خطبات طاہر جلد ۲ کرنے والوں کی عبادت بیچی تھی۔454 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء اس موقع پر جب کہ یہ عظیم الشان گھر آباد ہوا کیا واقعات گزرے اس کا انسانی تاریخ کوئی ذکر نہیں کرتی۔صرف ایک قرآن کریم ہے جس نے یہ ذکر کیا ہے کہ پہلا گھر اللہ کی عبادت کے لئے وہی ہے جو بکہ کے پاس موجود ہے۔البتہ قرآن کریم نے اس کی تعمیر نو کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس گھر کو اللہ کے منشا کے مطابق دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کیا واقعات گزرے۔وہ ایسے واقعات ہیں جن کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا گیا ہے ان لوگوں کی خاطر جو خدا کا گھر بنانے کی نیت کرتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پاک سنت پر عمل کئے بغیر اگر کوئی گھر بنایا جاتا ہے تو اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔اگر اس میں وہ روح نہیں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیش نظر تھی تو تب بھی اس گھر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔لوگ خدا کی خاطر بڑے بڑے گھر بناتے ہیں اور ان پر ارب ہا ارب روپیہ خرچ کر دیتے ہیں مگر اس گھر سے ان کو کوئی بھی نسبت نہیں ہوتی جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے از سر نو تعمیر کیا تھا اور وہاں کسی بادشاہت کا رو پیدا استعمال نہیں ہوا ، کوئی بڑے بڑے انجینئر نہیں آئے ، فن تعمیر کے کوئی ماہرین نہیں اکٹھے کئے جو دنیا کے عظیم الشان معمار کہلاتے ہوں ، کوئی قو میں مزدور نہیں بنائی گئیں۔اللہ تعالیٰ اتنا فرماتا ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو ہوئی تو باپ معمار تھا اور بیٹا مزدور اور بیٹا اتنی چھوٹی عمر کا تھا کہ بمشکل دوڑنے بھاگنے کے قابل ہوا تھا۔اس وقت خدا کے نبی نے خود اپنے ہاتھوں سے اس گھر کی تعمیر کی۔پھر اکٹھے کئے ، بنیاد یں کھود میں جو ریت کے تلے چھپ گئی تھیں۔حضرت رسول کریم فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو لے کر آئے ہیں تو تلاش کرتے پھرتے تھے کہ وہ پہلا گھر ہے کہاں۔چنانچہ ریت کے اندر سے پرانے زمانے کے منہدم گھر میں سے چھوٹی سی دیوار باہر نکلی ہوئی دکھائی دی۔اس دیوار پر آپ نے اپنے بچے کو بٹھایا اور پھر تلاش شروع کی کہ کس طرح اس گھر کی دوبارہ تعمیر کرنی چاہئے ، کیا نقشہ بنے گا لیکن چونکہ حضرت اسمعیل کا اس تعمیر نو میں شامل ہونا عند اللہ ضروری تھا اس لئے اس وقت تعمیر نو نہیں ہوئی۔اس وقت خدا نے ٹال دیا اس وقت کو اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب تم ان کو چھوڑ کر یہاں سے چلے جاؤ اور تعمیر کا جو کام اسماعیل سے لینا تھا وہ خواب میں دکھایا گیا کہ اس گھر کے پاس ان کو لے کر جارہے