خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 443
خطبات طاہر جلد ۲ 443 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۳ء ڈالتا ہے اپنے تعلق کو بھی شامل کر لیتا ہے۔ورنہ تو ناممکن ہے کہ وہ کام کیا جاسکے۔اس پہلو سے معا بعد آنے والی دعا نے سکھا دیا کہ دراصل ہماری وسعتیں ہمارے خدا میں ہیں، ہماری تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہمارا خدا ہے اور جتنا زیادہ گہرا تعلق ہم اپنے رب سے کریں گے ہماری وسعتیں پھیلتی چلی جائیں گی اور چونکہ اس کی طاقتیں لا متناہی ہیں اس لئے بلا شبہ ہماری وسعتیں بھی لا متناہی ہیں۔یہ ہم پر منحصر ہے کہ اپنے تعلق کو کس حد تک بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔اگر خدا کی ذات میں اپنے وجود کو مدغم کر دیں، اگر اپنا کچھ بھی نہ رہنے دیں، نہ اپنی تمنائیں اپنی رہیں ، نہ اپنی خواہشات نہ اپنی محبت اور نہ نفرتیں کچھ بھی اپنا نہ رہے تو پھر ہماری وسعتیں ہمارے خدا کی وسعتیں بن جائیں گی اور اس کے آگے کوئی بھی چیز انہونی نہیں اور کوئی بھی چیز مشکل نہیں ہے۔وہ جو كُنْ فَيَكُونُ کا مالک خدا ہے اس کے تعلق کے بعد انسان کیسے وہم کر سکتا ہے کہ میری حیثیت چھوٹی ہے اور میری وسعتیں محدود ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے معاً بعد دعا سکھا کر اور پھر دعا میں ان تمام باریک پہلوؤں کو روشن کر دیا جو اس مضمون سے گہرا تعلق رکھتے ہیں ) حوصلہ دے دیا ہمیں سبق بھی دیا، وہ راستہ دکھا دیا جس راستے پر چل کر ہماری طاقتیں پھیلتی چلی جائیں گی اور وسیع تر ہوتی چلی جائیں گی چنانچہ فرمایا: رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأنَا اے خدا ! انسان طاقتیں ضائع بھی کر دیتا ہے۔جو کچھ حاصل ہے اس سے بھی تو پوراستفادہ نہیں کر سکتا اور وسعتوں میں سے وہ حصہ منفی ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دو طریق پر ہے بعض دفعہ بھول چوک کے ذریعہ، بعض دفعہ خطاؤں کے ذریعہ تو ہماری پہلی درخواست تو یہ ہے کہ ہمیں یہ توفیق عطافرما کہ جو ہماری وسعتیں ہیں ہم ان سے تو پورا فائدہ اٹھا ئیں۔خطائیں کی ہیں تو معاف فرما دے۔خطاؤں کی جو سزائیں مقرر ہیں یا خطاؤں کے جو طبعی نتائج تو نے مقرر فرمائے ہوئے ہیں ان سے ہمیں نجات بخش اور ایسی توفیق عطا فرما کہ آئندہ خطائیں نہ کریں۔اگر خطائیں ہو بھی جائیں تو کم سے کم ہوں اور اسی طرح ہمارے بھول چوک کے مضمون میں بھی تو داخل ہو جا اور بھولی ہوئی چیزوں کے بدنتائج سے محفوظ فرماتا چلا جا پھر فرمایا: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا یہ کہنے کے بعد ہماری توجہ گزشتہ قوموں کی طرف مبذول کروادی۔فرمایا یہ پہلی دفعہ تو واقعہ نہیں ہوا کہ خدا نے کسی قوم کے سپر د ایک ذمہ داری کی ہے اور پہلی دفعہ یہ واقعہ نہیں ہوا کہ خدا توقع رکھتا ہے کہ تم