خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 442

خطبات طاہر جلد ۲ 442 خطبه جمعه ۲۶ را گست ۱۹۸۳ء اس کے نفاذ کے لئے اور اسے زندگی کا ایک ناقابل تقسیم جز و بنادینا یہاں تک کہ وہ نسلاً بعد نسل فطرت ثانیہ کے طور پر لوگوں کی رگوں میں جاری ہو جائے ، یہ ہے اسلام کی تبلیغ کا بنیادی تقاضا جسے ہم نے پورا کرنا ہے اور ہم اس کے اہل نہیں ہیں۔پھر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ توجہ مبذول کراتا ہے اور فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا تمہارے اندازوں میں کوئی غلطی ہوگی ، ہو سکتا ہے بعض وسعتیں تم نے دیکھی نہ ہوں، پھر نظر دوڑاؤ، پھر تلاش کرو ، عین ممکن ہے کہ کچھ ایسی وسعتیں ہوں جن پر تم نے نظر نہ ڈالی ہو۔اس پہلو سے جب میں نے دوبارہ غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ انسان کی وسعتیں صرف اس کی ذات تک یا اس کی جماعت تک محدود نہیں ہوا کرتیں بلکہ اس کے تعلقات اور اس کی دوستیاں بھی تو وسعتوں میں شامل ہوا کرتی ہیں۔ایک چھوٹا سا ملک اگر ایک بڑے ملک کا دوست ہو تو کیسی جرات سے آنکھ اٹھا کر بڑی بڑی طاقتوں کو چینج کرتا ہے۔کہتا ہے تم مجھے نہیں مٹا سکتے اس لئے کہ فلاں ملک میری پشت پناہی کر رہا ہے۔غالب نے بھی تو کہا ہے کہ ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگر نہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے (دیوان غالب صفحه ۳۴۴) تو انسانوں کی آبروئیں اور طاقتیں ان کی دوستیوں کے ساتھ بدلتی ہیں۔ان کے تعلقات کے دائرے جتنے وسیع ہوں اتنی ان کی وسعتیں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔تو لازماً اس سمت میں کوئی حل ہے جس کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے۔معا دیکھا کہ اگلی آیت یہی سکھا رہی ہے۔اس کے معا بعد دعا کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأَنَا اے خدا ! ہم تو بالکل بے کار اور ناکارہ لوگ ہیں ہماری وسعتوں میں تو نے اپنا تعلق داخل کر دیا تبھی ایسے عظیم الشان کام ہمارے سپر د کر رہا ہے جو ناممکن ہیں ، انسان کی بساط میں نہیں ہے کہ ان کو پورا کر سکے۔تو جب تک ہمارا دوست ہے ہماری وسعت ہے جب تو نے تعلق توڑ دیا تو ہماری کوئی بھی وسعت نہیں اور جب خدا خود ذمہ داریاں ڈالتا ہے تو اس وجود، قوم کی وسعت میں جس پر ذمہ داریاں