خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 428
خطبات طاہر جلد ۲ 428 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۳ء نہیں ہوا اور میں اپنے آپ کو ایسا بد نصیب نہیں سمجھتا کہ تجھ سے مانگوں اور تو نہ دے۔الغرض ہر ناممکن امر سے بات شروع کرتے ہیں اور پھر (مضمون بعد میں کھلے گا ) مانگ وہ رہے ہیں جو ان باتوں کے بعد بظاہر مل ہی نہیں سکتا۔پھر اس مضمون کو ظاہر کر دیتے ہیں کہ میں کیا مانگنا چاہتا ہوں کہتے ہیں وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَاءِی کہ میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں اور کمزوری بہت بڑھ گئی ہے اور مجھے ڈر یہ ہے کہ میرے بعد میرے شریک معاملات بگاڑ دیں گے اور جس نظام کے تحت میں نے اپنی قوم کی پرورش اور اس کی تربیت کی ہے اسے وہ تہس نہس کر دیں گے کیونکہ انہیں قوم سے وہ محبت ہی نہیں جو مجھے ہے اور انہیں تیرے دین کا ایسا خیال نہیں جیسا مجھے ہے۔ان حالات میں مجھے بہت پریشانی ہے کہ اس پیغام کا جو میں نے اپنی قوم کو دیا تھا کیا بنے گا اور اس تربیت کا کیا ہوگا جو میں نے اپنی قوم کی کی تھی۔بعد ازاں انہیں یہ خیال آتا ہے کہ صرف میری ہی کمزوری تو نہیں میرے فریق ثانی کی بھی تو کمزوری ہے۔چنانچہ کہتے ہیں امْرَأَتِي عَاقِرًا کہ میں بڑھا کھوسٹ یعنی میں حد سے بڑھا ہوا بوڑھا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہے یعنی اولاد ہونے کا کوئی دور کا بھی امکان نظر نہیں آتا، پھر بھی میں عرض کرتا ہوں کہ فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا کہ مجھے بیٹا عطا فر ما يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وہ میرا بھی اور آل یعقوب کا بھی روحانی ورثہ پائے۔ایسی اولا د نہ ہو جو بعض اوقات ورثہ پا کر ضائع کر دیتی ہے رَضِیا ہو۔اے اللہ! اسے ایسا بنانا کہ وہ ہمیشہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی رہے۔خدا تعالیٰ نے جب یہ دعاسنی تو حضرت زکریا کو براہ راست خطاب فرمایا اور لفظوں کا کوئی فاصلہ درمیان میں نہیں ڈالا کہ اے محمد ! ہم نے جب یہ دعاسنی تو پھر ہمارا دل پسیجا اور ہم نے اس کی دعا قبول فرمالی بلکہ معا خدا تعالیٰ (جیسے نظام کو Take over کرلیا ) فرماتا ہے: يُزَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلِم اے زکریا اس دعا کے بعد اسے رد کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں رہتایزَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلِم ہم تجھے ایک غلام کی خوشخبری دیتے ہیں یعنی ایک ایسے بیٹے کی جو عمر پانے والا ہوگا، اسمه يَحْلِی اس کا نام بھی بیچی رکھتے ہیں ، لَم نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيَّا فِى تیری دعا بڑی انوکھی اور منفرد تھی ویسے ہی تیرا بیٹا بھی منفرد اور انوکھا نام پانے والا ہے، ہم نے اس