خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 427 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 427

خطبات طاہر جلد ۲ 427 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۳ء لیتا ہے۔چنانچہ فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ ( الیہ : ۴) کا ایک یہ بھی مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہنے دی جو پہلے گزری ہو، باقی رکھنے کے لائق ہو اور وہ محمد مصطفی ﷺ کو عطانہ فرما دی ہو۔انہی میں انبیاء کی دعائیں بھی شامل ہیں۔مثلاً حضرت زکریا نے ایک ایسی دعا کی جس پر اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پیار آیا اور جب خدا تعالیٰ نے اس واقعہ کی خبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کو دی تو اس دعا کے تمام مضبوط پوائنٹس points یعنی وہ پہلو جو اسے پسند آئے وہ بھی بیان فرمائے اور ان کی اندرونی کمزوریوں کا بھی نہایت لطیف رنگ میں ذکر فرما کر یہ مضمون ہر پہلو سے مکمل فرما دیا اور پھر آپ کے طفیل ، وسیلہ اور آپ کی برکت سے وہ دعائیں اور نعمتیں ہم تک بھی پہنچیں۔ان میں سے ایک وہ دعا ہے جو حضرت زکریا نے کی اور جس کا ذکر میں نے ابھی آپ کے سامنے قرآن کریم سے تلاوت کر کے سنایا ہے۔حضرت زکریا" کا مزاج اپنی لطافت کے لحاظ سے بہت ہی حیرت انگیز تھا اور انہیں مانگنے کی ادائیں بھی خوب آتی تھیں۔جب آپ ان کی دعا غور سے پڑھیں تو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ لازما قبول ہوئی ہوگی ، ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی اسے رد کر دے۔اگر کوئی لطیف مزاج کا مالک اور محبت کرنے والا ہو اس طرح اس سے مانگا جائے تو وہ رد نہیں کر سکتا لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ اسی گہرائی سے مانگا جائے جس گہرائی کے ساتھ حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعا مانگی۔گہرائی کا کیسے پتہ چلے؟ آپ بھی یہ دعا مانگیں اور سمجھیں کہ ہم بھی بڑی گہرائی سے دعا کر رہے ہیں۔در حقیقت دعا کرنے والے پر ایک کیفیت طاری ہوتی ہے وہ کیفیت جتنی عمیق ہوا تناہی زیادہ اچھی ادا ئیں اسے عطا ہوتی ہیں۔پس حضرت ذکریا کے مزاج میں یہ باتیں پہلی ہی دفعہ آ جانا یہ بتاتا ہے کہ آپ کے جذبات میں بہت ہی گہرائی تھی ورنہ سطحی جذبات والا دعا کر رہا ہو تو اس کے تصور میں بھی یہ باتیں نہیں آسکتیں جو اس وقت حضرت زکریا کے تصور میں آئیں۔آپ کہتے ہیں۔رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّى اے اللہ میری تو ہڈیاں بھی کمزور ہوگئی ہیں یعنی ایسا بوڑھا ہو چکا ہوں کہ ہڈیوں کا گودا گھل گیا ہے اور ان میں کوئی طاقت ہی نہیں رہی۔وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَیبا اور بال سفیدی سے بھڑک اٹھے ہیں، اتنا بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں، یہ میری عاجزی اور بڑھاپے کی کیفیت ہے لیکن باوجود اس کے میرا حوصلہ اور تو کل یہ ہے کہ وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِیامیں تجھ سے مراد پانے سے مایوس