خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد ۲ سے پہلے کبھی کسی کو یہ نام نہیں دیا۔429 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۳ء اس کے بعد خدا تعالیٰ حضرت زکریا کی اندرونی کمزوری کا نہایت ہی لطیف رنگ میں ذکر فرماتا ہے کہ انسان کیسے ہی اخلاص سے دعائیں کرے پھر بھی اس میں کمزوری کا کوئی نہ کوئی پہلو باقی رہ جاتا ہے۔ابھی حضرت زکریا یہ کہہ رہے تھے کہ اے خدا! میرا یقین اور تو کل دیکھ کہ ان سب باتوں کے باوجود میں مانگ رہا ہوں اور جب ہم نے عطا کر دیا تو کہنے لگے یہ کیسے ہوگا! اگر اتنا ہی یقین تھا تو پھر یہ سوال کیسے کر دیا ؟ حضرت زکریا نے فوراً کہا ربّ أَتَى يَكُونُ لِي غُلَمُ اے الله ! میرے ہاں کیسے بیٹا ہو سکتا ہے وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا میری بیوی بانجھ وَ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عتا اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔یہ دونوں ایک ہی شخص کی باتیں ہیں۔پہلی یہ کہ اگر چہ میرا یہ حال ہو گیا ہے لیکن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں مایوس ہو جاؤں ، مجھے تیری ذات پر پورا تو کل، یقین اور عزم ہے کہ تو ضرور عطا فرمائے گا اور جب مرا دل گئی تو گھبرا گئے اور پھر اچانک وہ تو ہمات اور اندرونی شکوک شبہات جو انسان کو ہمیشہ مبتلا رکھتے ہیں جاگ اٹھے کہ اے خدا ! کیا واقعی اتنا بڑا کام ہو ہی جانا تھا۔مانگ تو میں رہا تھا اب مل گیا ہے تو یقین نہیں آرہا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ ہاں! تیرے رب نے یہی تو کہا ہے کیا تو سن نہیں رہا یہ تو اسی طرح ہوگا۔ابھی تو کہہ رہا تھا کہ تیرے لئے سب کچھ آسان ہے هُوَ عَلَى عَلَى هَين ہاں واقعی مجھ پر یہ آسان ہے اور مزید ثبوت یہ ہے کہ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا کہ میں نے تجھے اس حال میں پیدا کیا کہ تو کچھ تھا ہی نہیں۔وہ مشکل کام تھا یا یہ ؟ گویا دلیل بھی ایسی دی جو انسانی دل اور عقل کو اس کی گہرائی تک مطمئن کرتی چلی جائے۔پس یہ ایک ایسی دعا ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں محفوظ فرمائی اور جب آنحضرت ﷺ کو اس سے مطلع فرمایا تو وہاں یہ نہیں فرمایا کہ وَاذْكُرُ رَحْمَتَ رَبِّ زَكَرِيَّا بلکہ یہ فرمایا کہ ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبَّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا اے محمد ! پہلے وہ تیرا رب ہے جس نے حضرت ذکریا کو عطا فرمایا تھا وہ رب جو انہیں یہ سب کچھ دے سکتا ہے وہ سب سے زیادہ تجھ سے پیار کرنے والا ہے اس لئے تو یا تیری امت جب اس طرح دعائیں مانگیں گے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ خدا تمہیں عطا نہ کرے۔پس یہ آیات دعا کا عظیم الشان مضمون بیان کر رہی ہیں اور امت محمدیہ کو کتنا بڑا حوصلہ عطا