خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد ۲ 416 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء آپ نے ایک امیرانہ زندگی چھوڑ کر ایک فقیرانہ زندگی اختیار کی اور اپنے والد صاحب کے نقش قدم پر چل کر انہی صفات سے مزین ہوئے۔ساری اولادوں میں سے آپ کو یہ امتیازی مقام حاصل ہوا کہ نہ صرف وقف کیا بلکہ وقف کے تقاضوں کو خوب نبھاہا۔گرمی اور سردی میں ،صحت کی کمزوری میں ، خدمت دین کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔چنانچہ آپ پرسوں مجھ سے ملے اور اجازت لی کہ میں فلاں سفر پر جا رہا ہوں اسکے بعد فلاں جگہ ضرورت ہے وہاں جاؤں گا ، پھر فلاں جگہ جاؤں گا۔میں نے کہا مولوی صاحب آپ کی صحت بہت کمزور ہوگئی ہے پاؤں پر زخم اور شوگر کی تکلیف ہے، عمر کا بھی یہی تقاضا ہے کہ آپ اتنا بوجھ نہ لیں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ حضور ! بوجھ کیسا میں تو بہت خوش ہوتا ہوں اور میرا دل ان باتوں سے کھل اٹھتا ہے اس لئے مجھے اجازت دے دیں کہ میں دینی سفر پر رہا کروں۔جتنا زیادہ میں سفر کرتا ہوں اتنا ہی میری طبیعت ہشاش بشاش ہوتی چلی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس جذبہ کو قبول فرمایا اور اسی سفر کی حالت میں آپ کو اپنے پاس بلالیا۔غم کتنا بھی ہو ہم تب بھی اپنے اللہ کی رضا سے راضی ہیں۔آنکھوں سے آنسو گر نا تو انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔حضرت محمد مصطف علی نے ہمیں نرم دل بنادیا اور انسانیت سکھائی لیکن جزع فزع کی ہمیں اجازت نہیں ، نہ ہی وہ ہماری سرشت میں داخل ہے ، نہ مایوسی کا ہمیں سبق دیا گیا ، نہ مایوسی سے ہم آشنا ہیں۔قومیں زندہ رہتی ہیں اور افراد گزرتے چلے جاتے ہیں اور زندہ قومیں قطعاً اس بات کی پرواہ نہیں کرتیں کہ کون آیا اور کون گیا۔بحیثیت قوم ان کی زندگی کا سفر ہمیشہ آگے سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ بھی ایک زندہ قوم ہے جانے والوں کے جانے سے دیکھ تو ضرور پہنچتا ہے لیکن مایوسی پیدا نہیں ہوتی۔مجھے امید ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر جانے والے مقابل پر سینکڑوں ہزاروں اس جیسے پیدا کر دیا کرے، ایک عبد المالک کو بلائے تو جماعت کو ہزاروں لاکھوں عبدالمالک عطا کر دیا کرے کیونکہ دنیا کو مخلصانہ خدمت کرنے والوں کی بے حد ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے اور ہمارا دامن خدمت کرنے والوں سے کبھی تہی نہ رکھے اور دن بدن واقفین کی جماعت کی رونق میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے ، روز بروز خدا کے فرشتے دلوں میں تحریک کریں کہ ایک کی جگہ خالی ہوئی ہے تم دس ہیں ، سو اور ہزاروں آگے بڑھو اور لبیک کہہ کر اپنے آپ کو پیش کرو کہ ہم اس جگہ کو پر کرنے کے لئے حاضر ہیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۸ اگست ۱۹۸۳ء)