خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 415
خطبات طاہر جلد ۲ 415 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء پاکیزگی کے ایک لامتناہی سفر کی طرف رواں دواں ہو جائیں گے اور جب آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایثار کریں گے اور اس کی خاطر دوسرے کے ماں باپ کا خیال رکھیں گے تو یہ ہوہی نہیں سکتا کہ دوسرا فریق آپ کے والدین کا پہلے سے بڑھ کر خیال نہ کرے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم یہ بنیادی بات ہمیشہ اپنے اندر امتیازی شان کے ساتھ قائم رکھیں کہ جو نصیحت سنیں اس پر دلی شوق اور جذبہ سے عمل کرنا شروع کر دیں اور معاشرہ میں اس طرح کی ایک رو پیدا ہو جائے کہ کانوں میں چلو نیکی کریں، چلو نیکی کریں کی آواز پڑتے ہی نیکی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ شروع ہو جائے۔اگر آپ اس روح کی حفاظت کرتے چلے جائیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس دنیا کو جنت بنانے والے صرف اور صرف احمدی ہوں گے اور ہماری جنت کے ذریعہ ہی دنیا کی جہنمیں تبدیل ہوں گی، ہماری ہی وہ زمین ہوگی جو خدا تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق پھیلتی چلی جائے گی۔یہی وہ جنت ہے جو تمام دنیا پر غالب آنے کے لائق ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ ہی کو توفیق ملے گی کہ وہ اس جنت کو دنیا میں غالب کر دے۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: آج ایک انتہائی دردناک واقعہ ہوا ہے جس سے دل بہت ہی مشتعل ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ دل میں ایک گہرا زخم لگا ہے کیونکہ آج سلسلہ کا بہت ہی پیارا خادم اچانک ایک حادثہ میں ہم سے جدا ہو گیا۔یعنی مولا نا عبدالمالک خان صاحب جو ایک تبلیغی جہاد پر روانہ ہوئے تھے شیخو پورہ کے قریب ایک حادثہ میں شدید زخمی ہوئے اور جب تک ایک ہسپتال کی بدانتظامی سے تنگ آکر دوسرے ہسپتال میں منتقل کیا گیا اس دوران آپ وفات پاگئے۔اس واقعہ کی اطلاع ابھی جمعہ کے لئے آنے سے پہلے لاہور سے فون پر ملی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔ہمارا دل بے حد مغموم ہے کیونکہ سلسلہ کا ایک نہایت ہی فدائی خادم جو ہندوستان کے چوٹی کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس نے اللہ تعالیٰ کی عزت کو قبول کیا اور دنیا کی عزت کو دھتکار دیا۔وہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس کے آباؤ اجداد کی سارے ہندوستان میں عزت کی جاتی تھی اور کی جاتی ہے لیکن ان کے والد صاحب نے ان ساری عزتوں کو تج کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دامن پکڑا اور اللہ کی دی ہوئی عزت کو ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا۔