خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 382
خطبات طاہر جلد ۲ 382 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۲ء اتنی سی بات سنکر ہی مالک ڈر جائے گا۔اور تمہاری تنخواہ بڑھادے گا۔چنانچہ اس بیچارے نے مونچھیں پالیس، تیل ویل ملا اور بل دے دے کر انہیں اونچا بھی کیا۔جب وہ مالک کے سامنے پہنچا اور مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے اس نے کہا حضور والا! آپ میری تنخواہ بڑھاتے ہیں کہ نہیں۔بڑھائیں ورنہ۔۔! تو مالک نے جو اس سے بھی زیادہ طاقتور تھا بڑے جلال سے کہا کیا بکواس کر رہے ہو ، بتاؤ ورنہ کیا کرو گے۔اس نے کہاور نہ حضور میں مونچھ نیچی کرلوں گا اور جس طرح آپ فرمائیں گے راضی رہوں گا،اس کے سوا میری پیش ہی نہیں جاسکتی۔مالک نے کہا بہت اچھا پھر تمہاری تنخواہ نہیں بڑھتی۔پس اللہ سے مانگنے والے اس طرح تو مانگ نہیں سکتے اور اگر مانگیں گے تو لازما مونچھیں نیچی کرنی پڑیں گی اس لئے معقول آدمی جانتا ہے کہ جہاں انسان کی کچھ پیش ہی نہیں جاسکتی ، اپنی کچھ چل ہی نہیں سکتی وہاں سلیقے سے کیوں نہ بات کریں۔مونچھ بڑھا کر بات کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پہلے ہی کیوں نہ یہ عرض کریں کہ اے اللہ ! ہم تیرے عاجز بندے ہیں ، ہماری کوئی پیش نہیں جاتی ، کوئی بس نہیں چلتا، ہم بالکل بے حیثیت اور ناکارہ لوگ ہیں ہمیں جو کچھ عطا ہوا ہے تو نے عطا کیا ہے۔اب ہمیں فلاں چیز کی ضرورت ہے، یہ بھی عطا کر دے تو تیرا احسان ہے۔تو ہمیں عطا نہیں کرے گا تب بھی ہم تیری ذات پر راضی رہیں گے۔ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو نہ عطا ہونے پر روٹھ جایا کرتے ہیں۔روٹھنے کی جگہ بھی تو کوئی نہیں ہے۔جائیں تو جائیں کہاں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں: ے میں ترا در چھوڑ کر جاؤں کہاں چین دل آرام جاں پاؤں کہاں اے خدا! ہم تیرا در چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور اگر چھوڑیں گے تو پہلے حال سے بھی بدتر ہو جائیں گے، جو کچھ میسر ہے یہ بھی نہیں رہے گا۔اس دلی کیفیت سے جو دعا کر رہا ہو اس کے لئے جزع فزع کا کونسا موقع رہ جاتا ہے وہ تو مانگتے ہوئے خود اپنی حیثیت کو بھی پہچان رہا ہوتا ہے اور یہ عرض کر رہا ہوتا ہے کہ اے خدا ! میں نے ہر حال میں راضی برضا رہتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ہی اس مضمون کو ایک اور شعر میں یوں بیان فرمایا ہے: ہو فضل تیرا یارب یا کوئی ابتلا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو (الفرقان اپریل ۱۹۷۷ء)