خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 383
خطبات طاہر جلد ۲ 383 خطبہ جمعہ ۱۵ر جولائی ۱۹۸۲ء ہم تیرے عاجز بندے ہیں ہم ہمیشہ تجھ سے ہی یہ دعا کرتے رہیں گے کہ اے اللہ ! ہمارے ابتلا دور فرمادے اور ہم پر فضل نازل فرما۔لیکن اے ہمارے آقا! تو گواہ ہے کہ جب کبھی تو نے فضل نازل نہ فرمایا اور یہی فیصلہ فرمایا کہ ابتلا رہے گا تب بھی ہم تیری رضا پر راضی رہے۔پس یہ عبادت ہی ہے جو انسان کی فطری کمزوری کو خو بیوں میں بدل دیتی ہے اس لئے مومن کے لئے جزع فزع کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں لیکن ساتھ ایک شرط لگا دی فر مایا إِلَّا الْمُصَلِّينَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَابِمُونَ تمہاری ساری پرانی عبادتیں تو اس موقع پر کام نہیں آئیں گی۔یہ تو انسان کی ایک مستقل حالت ہے۔چونکہ انسان کے ساتھ مصیبتیں لگی رہتی ہیں اس لئے فرمایا تم اپنے آپ کو ایسی حالت میں نہ مبتلا کر دینا کہ تمہاری عبادتیں پیچھے رہ چکی ہیں اور مصیبتوں نے تمہیں آگے سے پکڑ لیا ہو۔عبادتوں پر دوام اختیار کرنا تا کہ کسی حالت میں بھی تمہیں کوئی مصیبت اچانک نہ پکڑ سکے جب کبھی کوئی مصیبت آئے تو وہ دیکھ لے کہ ایک عبادت گزار بندے پر آئی ہوں اور عبادتیں ان مصیبتوں کو دھکے دے دے کر باہر نکال دیں اور تمہاری حفاظت کریں۔چنانچہ قرآن کریم نے ایک اور موقع پر اسی مضمون کی وضاحت کے لئے وَالَّذِيْنَ هُمُ عَلى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (المومنون: ١٠) کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔گو یا مومن کو اس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ اگر تم دنیا میں دوام چاہتے ہو تو عبادت کی حفاظت کرو، اگر تم اپنے امن اور سکون کے لئے دوام چاہتے ہو تو عبادت میں دوام اختیار کرو، اگر تم آسمانی حوادث سے محفوظ رہنا چاہتے ہو اور دکھوں اور مصیبتوں سے امن میں آنا چاہتے ہو تو عبادت کو اس کی شرائط کے ساتھ بجالاؤ تا کہ عبادت تمہارے لئے محافظ بن جائے۔پس یہ وہ مضمون ہے جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور عبادت کا ذکر کر کے اس کا طبعی نتیجہ یہ نکالا الَّذِيْنَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ وہ آدمی جو خدا سے مانگ رہا ہوا گر وہ خود دوسروں کو نہ دیتا ہو تو مانگنے کا اہل ہی نہیں رہتا۔جو خدا سے یہ عرض کرنا چاہے کہ اے خدا! تو بڑا رحیم و کریم ہے تجھے سب کچھ حاصل ہے اس میں مجھے خیرات ڈال اور خود اس کی اپنی حالت یہ ہو کہ جب دوسروں کو ضرورت ہو تو خیرات نہ دیتا ہو تو اللہ تعالیٰ تو اس کی دعائیں نہیں سن سکتا اور ایک معقول اور صاحب فہم آدمی ایسی دعا کر ہی نہیں سکتا۔جب اپنا حال یہ ہو کہ وہ دوسروں کے