خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 381

خطبات طاہر جلد ۲ قادر 381 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۲ء رمطلق ہے ، وہ دعاؤں کو سننے والا ہے ، وہ نا ممکن و ممکن میں بدل سکتا ہے تب وہ اس یقین کی بنا پر کسی حالت میں بھی مایوس نہیں ہو سکتا۔یعنی جس قوم کو دعا پر کامل یقین ہو اور وہ سمجھتی ہو کہ دعا اور عبادت ایک ایسی قادر مطلق ہستی کے ساتھ میرا رابطہ قائم کر رہی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے، جو ہر مشکل کو آسانی میں بدل سکتی ہے اور ہر دکھ کو سکھ میں تبدیل کر سکتی ہے، ایسا آدمی سوائے اس کے کہ پاگل ہو جائے وہ مایوس نہیں ہو سکتا اور یہاں پاگلوں کی بات ہی نہیں ہورہی۔عام انسان جو عبادت کا حق ادا کر رہا ہو اور عبادت کے مفہوم کو سمجھتا ہو اس کے لئے کسی وقت بھی مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔اس کا دوسرا پہلو جزع فزع سے تعلق رکھتا ہے۔مومن اس لئے اس حالت میں نہیں پڑتا کہ عبادت کے ذریعہ اس کا رب کریم سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور یہ تعلق اس کو اللہ کا پیار عطا کر دیتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا بھی سکھا دیتا ہے۔گو یا عبادت ایک مصیبت زدہ مومن کے لئے دو ہری رحمت کا پیغام لاتی ہے۔عبادت کے وقت جب وہ خدا سے مانگتا ہے تو اس شرط کے ساتھ نہیں مانگتا کہ اے خدا! مجھے دے نہیں تو میں تم سے روٹھ جاؤں گا۔ایسی دعا تو انسان کے منہ پر مار دی جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔مومن بندہ تو یہ عرض کرتا ہے کہ اے میرے اللہ ! میری مشکلوں کو دور فرما، میرے دکھوں کو آسانیوں میں بدل دے، میں تجھ سے التجا کرتا ہوں میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور تجھ سے ہی مانگتا ہوں لیکن میری طرف سے کوئی دھمکی نہیں ہے ، میری طرف سے کوئی زور نہیں ہے ، تو مالک ہے اور میں تیرا بندہ اور غلام ہوں ، تو عطا کر دے گا تو میں راضی رہوں گا، تو نہ عطا کرے گا تب بھی میں راضی رہوں گا یہ ایک طبعی نتیجہ ہے جو ایک معقول اور صاحب فہم انسان کی دعا کا نکلتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ دعا کے سوا انسان کے لئے اور کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔دعا کرنے والے ایک مومن اور ایک عام انسان کی مثال دی جائے تو ایسی بنتی ہے جیسے کہتے ہیں ایک نوکر اپنے مالک سے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرنا چاہتا تھا لیکن اس بیچارے کو حوصلہ نہیں پڑتا تھا کیونکہ مالک بڑا جابر تھا۔نو کر کہتا تھا میں اپنی تنخواہ بڑھوانا چاہتا ہوں لیکن کیا کروں میری کوئی پیش نہیں جاتی بہت ڈر لگتا ہے۔کسی نے اس کو سمجھایا کہ اس طرح تنخواہ نہیں بڑھائی جائے گی۔تم اپنی مونچھیں بڑھاؤ اور اپنے اندر ذرا رعب داب پیدا کرو اور پھر مونچھوں کو تیل لگا کر اور بل دے دے کر اونچا کرو اور پھر مالک کے پاس جا کر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہنا آپ میری تنخواہ بڑھاتے ہیں کہ نہیں ، بڑھائیں ورنہ۔۔! تو