خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 353

خطبات طاہر جلد ۲ 353 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء مستقبل کے متعلق بھی یہ ضمانت دی جا سکتی ہے کہ وہ جرم نہیں کریں گے کیونکہ وہ لوگ فطرتا اور طبعاً پاکیزہ اور معصوم ہوتے ہیں۔ظاہر ہے جن کا ماضی بے داغ ہو ، جن کا حال بے داغ ہو ، جن کے مستقبل کے متعلق عالم الغیب خدا یہ کہتا ہو کہ میں نے ان کو دوست قرار دے دیا ہے اس سے لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ آئندہ بھی بے داغ رہیں گے۔سب سے زیادہ بے خوف انسان اگر دنیا میں کوئی ہوسکتا ہے تو وہ یہی لوگ ہیں۔سب سے بڑا خوف اندرونی خوف ہوتا ہے جو بیرونی شکلیں اختیار کرتا ہے جو بڑی بھیا نک ہوتی ہیں۔بعض دفعہ وہ محض کھتے رہتے ہیں لیکن بعض دفعہ یہ خطرے عمل کی دنیا میں ڈھل کر حقیقتا بڑے سنگین نتائج پیدا کر دیتے ہیں۔پس یہ دونوں قسم کے خطرات جو فرضی قسم کے ہیں ان سے بھی یہ لوگ پاک رہتے ہیں اور حقیقی خطرات سے بھی پاک رہتے ہیں۔تو اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم حقیقت میں مومن بننا چاہتے ہیں اور ان لوگوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں جو ربنا اللہ کہہ کر استقامت اختیار کرتے ہیں، ان کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا کہ تمہیں کسی خوف کی ضرورت تمہیں کسی حزن کی ضرورت نہیں۔اللہ و الہ تم کہہ بیٹھے ہو، اپنی استقامت سے اپنے دعوی کی سچائی ثابت کر بیٹھے ہو، یہ تو ایک قدرتی نظام ہے جواب جاری ہوگا تمہیں لازماً بے خوف بنادیا جائے گا۔پس اگر ہم حقیقت میں اللہ کے پیارے بننا چاہتے ہیں، اگر حقیقت میں ان لوگوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں جن پر کوئی خوف مستولی نہیں ہوتا تو اپنی سوسائٹی سے جرم کا ازالہ کریں، ظلم کو کلیۂ مٹا دیں کیونکہ جب تک ہماری سوسائٹی میں ہمارے اندر جرم کا ارتکاب موجود ہے اس وقت تک ہمارا یہ دعویٰ درست ہی نہیں ہے کہ اللہ ہمارا دوست ہے اس لئے اس دعوی کے ساتھ جرموں کی بیخ کنی ضروری ہے۔یہ آیت اصلاح کا ایک عظیم الشان پروگرام ہمارے سامنے کھولتی ہے۔جو شخص احمدی کہلاتا ہے اس کے گھر کے ہر فرد سے اس کا تعلق ہے۔جتنے خطرات بڑھیں گے اتنا ہی زیادہ ہمیں نیک بننے کی ضرورت ہے ، اتنا ہی زیادہ ہماری سوسائٹی کو جرموں سے پاک ہونے کی ضرورت ہے، اتنی ہی زیادہ ہمارے افراد کے اندر خدا خوفی کی ضرورت ہے، یہ ہے سائنٹیفک مذہب جس کا حقیقت سے تعلق ہے محض دعویٰ کا مذہب نہیں ہے۔ورنہ تو ساری دنیا یہ کہتی پھرتی ہے کہ ہم خدا والے ہیں، اللہ