خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 354

خطبات طاہر جلد ۲ 354 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء ہماری حفاظت کرے گا لیکن یہ صرف پاگلوں والے قصے ہوتے ہیں۔آخر وہ تمہاری کیوں حفاظت کرے گا تم کیوں کر خدا والے ہو، خدا والوں کی کچھ علامتیں ہوا کرتی ہیں اور وہی علامتیں بے خوفی کا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔یہ کوئی فرضی قصہ نہیں ہے۔خدا والوں کی علامتوں میں سے سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ جرم نہیں کرتے ، نہ وہ دنیا کا جرم کرتے ہیں اور نہ خدا کا جرم کرتے ہیں۔پس یہ لوگ معصوم عن الخطا بنتے چلے جاتے ہیں ان لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو کوئی خوف نہیں۔چنانچہ ایمان کے تقاضوں میں یہی مضمون بیان ہوا ہے کہ تمہارے بے خوف ہونے تک کچھ منازل ہیں۔تم اللہ سے مدد مانگو اور ان منازل کی طرف درجہ بدرجہ حرکت کرو ورنہ تم بے خوفی کے مقام تک نہیں پہنچ سکو گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو یہ دعا سکھائی: رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا تُنَادِى لِلْإِيْمَانِ أَنْ أَمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ( آل عمران : ۱۹۴ - ۱۹۵) کہ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور اس کی طرف بلانے والوں پر ایمان لے آتے ہیں خدا کے حضور یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم نے ایک منادی کی آواز کو سنا جو تیری طرف بلا رہا تھا۔یہ بلاوا ہمیں اتنا پیارا لگا ( بلانے والا بھی اور جس کی طرف بلایا جا رہا تھا ) اتنا اچھا لگا کہ ہم نے بلا تردد اسے قبول کر لیا۔سَمِعْنَا ہم نے سنا اور ہم ایمان لے آئے۔یہ ایک ایسا طبعی اور قدرتی نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ ظاہر فرماتا ہے جس کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں۔پس اے خدا! اس ایمان کے نتیجہ میں جو ہم تجھ پر لائے ہیں ہماری تجھ سے کچھ التجا ہے۔پہلی التجا تو یہ ہے کہ جو گناہ پہلے ہو چکے ہیں ان کے بوجھ ہم کہاں اٹھائے پھرتے رہیں گے وہ تو ہمارے کھانہ سے دور کر دے، ان کو مٹا دے اور معاف کر دے اور آئندہ کے لئے بھی ہمیں اپنے نفس پر اعتماد نہیں، ہم بے حقیقت اور عاجز بندے ہیں ہم تجھ سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم میں یہ طاقت ہے کہ