خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 352
خطبات طاہر جلد ۲ 352 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء مختلف زبانوں کے ادیبوں نے بھی کبھی افسانوں میں اور کبھی ناولوں میں اور کبھی علوم انفس کے ماہرین نے اپنے مضامین میں بیان کیا کہ دنیا کی اکثریت کا خوف جرم سے تعلق رکھتا ہے چنانچہ اس ضمن میں ایک مشہور کریکٹر Markham مار خیم) ہے جو ایک افسانہ کے اندر پیش کیا گیا ہے۔اس میں بھی یہی بات ظاہر کی گئی ہے کہ ایک شخص دنیا کے بیرونی خطروں سے دراصل اتنا خائف نہیں ہوتا جتنا وہ اندرونی خطروں سے خائف ہوتا ہے۔بعض دفعہ ایک جرم انسان کے وجود پر قبضہ کر لیتا ہے اور اندرونی خوف اسے بھیانک خوابیں بن کر ڈراتے رہتے ہیں۔چنانچہ جگہ جگہ ہر موڑ ہر سائے سے اسے ڈر لگنے لگتا ہے۔اسی مضمون کو Markham (مارخیم) کے کریکٹر میں چونکہ بہت ہی عمدگی سے بیان کیا گیا ہے اس لئے دنیا میں یہ کریکٹر بہت مشہور ہو گیا۔امر واقعہ بھی یہی ہے کہ انسانوں کی بھاری اکثریت اسی لئے خائف ہے کہ انہیں اندرونی خطرات لاحق ہیں۔جہاں تک قوموں کا تعلق ہے آج جو دنیا میں بے چینی پائی جاتی ہے اس کے پس منظر میں بھی جرائم ہیں۔Totalitarian Regimes ہوں یا اشترا کی طاقتیں۔فاشسٹ Regimes ہوں یا Dictatorships جو بھی دنیا میں قائم ہیں ان کے پس منظر میں بھی خوف کارفرما ہیں۔ان کے دلوں میں اپنی کچھ ایسی حرکتیں ہیں جو ہر وقت ان کے دلوں کو بے چین رکھتی ہیں اور جن کے متعلق ان کو معلوم ہے کہ وہ سزا کے لائق ہیں۔وہ اس خوف کے نتیجہ میں اس بات کے سزاوار بن جاتے ہیں کہ انہیں سزادی جائے۔چنانچہ پھر یہ خوف ان کو بعض اور جرموں پر آمادہ اور انگیخت کرتا ہے اور مزید جرم ان کو مزید خائف کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ دنیا بعض اوقات جن لوگوں کو بڑے عظیم الشان اور صاحب جبروت لوگوں کے طور پر دیکھتی ہے اگر ان کے دلوں میں جھانک کر دیکھا جائے تو ان کی زندگی ایک لعنت اور ایک جہنم بنی ہوتی ہے۔ان کے خوف بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں اور کم نہیں ہوتے۔افراد کا بھی یہی حال ہے اور قوموں کا بھی یہی حال ہے اور ان Regimes یعنی طاقتوں کا بھی یہی حال ہے جو جرائم کے زور پر اور ظلم وستم اور استبداد کے بل بوتے پر دوام چاہتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ مومن کی توجہ اس طرف مبذول کراتے ہوئے فرماتا ہے أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاء اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ (یونس:۶۳) اگر تم دنیا میں بے خوف بندے دیکھنا چاہتے ہو تو میرے پیاروں کو دیکھو کہ ان کا سارا ماضی اور تمام حال جرم سے خالی ہے اور ان کے