خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 328
خطبات طاہر جلد ۲ 328 خطبه جمعه ۱۰/ جون ۱۹۸۳ء بھی نہ آتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔پھر ہر گھونٹ پر خدا کی نعمتیں یاد آتی ہیں، اس کے احسانوں کا تصور دل کو مغلوب کر لیتا ہے اور روح اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔پس رمضان شریف کے بے انتہا فوائد ہیں۔آپ سر جھکاتے ہوئے اس رمضان سے گزریں اپنی روح کو بھی اور اپنے جسم کو بھی خدا کے حضور پیش کر دیں۔پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کے کیسے فضل نازل ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کے حق میں فرماتا ہے وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ یہ لوگ جو میری عبادت کا حق ادا کرتے ہیں یہ تجھ سے میرے متعلق پوچھتے ہیں۔میں کہتا ہوں میں ان کے قریب ہوں۔لیکن یہ یاد رکھیں کہ میرے حقوق وہ ضرور ادا کریں کیونکہ میرے حقوق ادا کرنے کے نتیجے میں میں ان کو ملوں گا ورنہ یہ تعلق کا یکطرفہ رستہ نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم رمضان کا حق ادا کرتے ہوئے اس کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ فوائد اٹھائیں لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ اس رمضان کو اس طرح ضائع نہ کر دیں جس طرح اس سے پہلے بعض قوموں نے روزوں کو ضائع کر دیا۔جب اللہ تعالیٰ نے مِنْ قَبْلِكُمْ فرمایا تو اس میں یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ تم سے پہلے بھی روزے فرض ہوئے تھے۔تم سے پہلے بھی ایسے لوگ تھے جنہوں نے روزوں سے فائدہ اٹھایا لیکن جب ان کی تاریخ پر نظر ڈالو گے تو تمہیں یہ بھی محسوس ہوگا کہ بہت سے ایسے بد بخت اور بد قسمت بھی تھے جنہوں نے فائدے کی بجائے نقصان اٹھایا۔انہوں نے بھی روزے پائے لیکن ایسے گندے حال میں پائے کہ وہ روزے ان کی عاقبت سنوارنے کی بجائے ان کو دین و دنیا سے محروم کر گئے۔ان کا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا۔پس ان لوگوں کی طرح روزے نہ رکھنا۔آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کے متعلق تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اور مومن کو ان کے سے افعال سے روکا ہے کہ دیکھو یہ نہ کرنا، وہ نہ کرنا، جھگڑا نہیں کرنا، فساد نہیں کرنا شہوات سے مغلوب نہیں ہونا، دکھاوا نہیں کرنا، ہر بدی سے رکنا ہے، ہر ظلم کو صبر سے برداشت کرنا ہے، کچھ لوگ تم پر زیادتیاں کریں گے۔فرمایا ان کو ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ کہوانی صائم کہ میں روزے دار ہوں ( صحیح بخاری کتاب الصوم باب وجوب فضل الصوم )۔دو دفعہ کہنے میں کیا حکمت ہے؟ وہ حکمت یہ ہے کہ مومن کی تو عام شان بھی یہ ہے کہ وہ ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں دیتا اور جب جاہل اس سے مخاطب ہوتا ہے تو جواب میں جاہلانہ