خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 329

خطبات طاہر جلد ۲ 329 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء باتیں نہیں کرتا بلکہ سلام کہتا ہے اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَمًا (الفرقان : ۶۴) پس ایسا مومن جس کی عام شان یہ ہوا گر وہ روزے دار بھی ہو تو تکرار سے بتائے کہ او بے وقوفوا تم مجھ سے کیا توقع رکھ رہے ہو؟ کیا تمہاری اشتعال انگیزی سے میں مشتعل ہو جاؤں گا؟ ہرگز نہیں میں تو عام حالات میں بھی سلام ہی کہا کرتا تھا۔اب تو میں روزے دار ہوں ، روزے دار ہوں ہممکن نہیں ہے کہ تم مجھ سے بے صبری کا مظاہرہ دیکھو۔پس جہاں کچھ بد قسمت اپنے روزوں کو ضائع کر رہے ہوں گے وہاں آپ کے لئے اور بھی زیادہ ثواب کا موقع ہوگا۔آپ صبر اور حو صلے اور ہمت اور دعاؤں کے ساتھ اس رمضان کو گزار ہیں پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کے کیسے فضل آپ پر نازل ہوتے ہیں۔مِنْ قَبْلِكُمْ یعنی وہ لوگ جنہوں نے روزے ضائع کر دیئے ان کی مثال میں بائیبل سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت یسعیاہ کی یہ نصیحت بائیل میں درج ہے کہ: ”دیکھو تم اس مقصد سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا رگڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو۔پس اب تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پر سنی جائے“۔(یسعیاہ باب ۵۸ آیت:۴) یعنی ایسے بدبخت انسان ہو کہ کوئی وقت تھا کہ تم روزوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے رحم کو جذب کیا کرتے تھے اور بنی نوع انسان کے حقوق ادا کیا کرتے تھے اور جھگڑوں سے روکا کرتے تھے۔اب یہی رمضان آتا ہے تو تمہیں اور زیادہ اشتعال انگیزیوں پر مجبور کر دیتا ہے۔تم طیش میں آکر کے مارتے ہو اور کہتے ہو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے ظلم سے اور ہمارے ستم اور استبداد سے کون بیچ کے نکلے گا ؟ عام حالات میں بھی ہم بڑے جابر تھے۔اب تو رمضان کی سختیاں آگئی ہیں۔اب تو روزے آگئے ہیں۔اب دیکھیں گے کون ہم سے بیچ کے نکلتا ہے۔حضرت یسعیاہ یہود سے فرماتے ہیں کہ تم یہ حرکتیں کر رہے ہو۔گویا یہود کی جو حالت گزر چکی ہے اور جس کے ایک پہلو کی طرف قرآن کریم من قبلکم میں اشارہ کرتا ہے، بائیبل میں یہ اس کی تفصیل ہے کہ: دیکھو تم اس مقصد سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا رگڑا کرو اور شرارت