خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 327

خطبات طاہر جلد ۲ 327 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء کے حقوق ادا کرنے میں بھی درجہ کمال تک پہنچتا تا ہے۔اس کے باوجود بڑے ہی بدقسمت ہوں گے وہ لوگ جو رمضان کو پائیں اور خالی ہاتھ اس میں سے نکل جائیں۔رمضان کی برکتوں میں سے ہو کے نکلیں لیکن یہ پانی ان کو نہ چھوئے اور چکنے گھڑے کی طرح ویسے کے ویسے وہاں سے آگے چلے جائیں۔یہ بڑی بدقسمتی ہے۔ایسی بدقسمتی ہے کہ آپ کروڑوں مسکینوں کو بھی کھانا کھلا دیں تو بھی یہ نیکی اس نعمت کی محرومی کا بدلہ نہیں ہو سکتی اس لئے ہر وہ احمدی جو استطاعت رکھتا ہے اور اپنے نفس کا تجزیہ کر کے جانتا ہے کہ وہ بیمار نہیں ہے بلکہ صرف کمزوری محسوس کر رہا ہے، اس کو لازماً آگے بڑھنا چاہئے اور روزے رکھنے چاہئیں۔أَيَّا مَّا مَّعْدُو دَتِ چند گنتی کے دن ہیں۔اس کی سختیوں کا پتہ بھی نہیں لگتا کہ کب گزر گئیں۔اور سختیاں ایسی ہیں جو انسان کے بدن کو ہلکا کرتی چلی جاتی ہیں۔جسم بھی ہلکے ہوتے چلے جاتے ہیں، روح بھی ہلکی ہوتی چلی جاتی ہے اور انسان زیادہ تیزی کے ساتھ آگے قدم بڑھاتا ہے۔رمضان کے بعد ہر روزہ رکھنے والا یہ جانتا اور محسوس کرتا ہے کہ اگر اس نے روزہ نہ رکھا ہوتا تو پتہ نہیں وہ کس ذلت میں پڑا ہوا ہوتا۔رمضان شریف بے انتہا کمزوریاں دور کر جاتا ہے اور بے انتہا نعمتیں عطا فرما دیتا ہے۔روزے میں سے گزرنے کے بعد جس طرح ہلکے پھلکے بدن کے ساتھ انسان قدم اٹھاتا ہے روزہ نہ رکھنے والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔پھر کھانے کا مزا آتا ہے، پینے کا مزا آتا ہے یعنی روحانی لذتیں تو الگ رہیں مادی لحاظ سے بھی رمضان میں سے گزرے بغیر اور اس کا حق ادا کئے بغیر انسان کو یہ اندازہ بھی نہیں ہوسکتا کہ پانی میں کیا لذت ہے اور کھانے میں کیا لذت ہے؟ روزہ دار کو صبح شام تھوڑا سا اس کا اندازہ ہوتا ہے لیکن رمضان کے بعد کہ جب چاہو ، جو چاہو پی لو، جو چاہو کھالو، یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں کہ بڑی ناشکری ہے جو ہم شکر کئے بغیر ان سے گزرتے ہیں۔اس لئے بچے شکر کی تعلیم بھی رمضان شریف دیتا ہے۔ایک ایک گھونٹ پر اللہ کے احسانات یاد آتے ہیں اور جو پانی پینے کی مادی لذت میں نے بتائی ہے وہ اس روحانی لذت کے مقابل پر کچھ بھی نہیں رہتی جو مومن کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ پانی سے جسم کی پیاس بجھاتا ہے تو اس کی روح کی پیاس بھی ساتھ بجھ رہی ہوتی ہے۔وہ کہتا ہے شکر ہے خدا کو دوبارہ یاد کرنے کا موقع میسر آ گیا۔اگر میں دو تین رمضان اسی طرح گزر جاتا تو پانی پینا اپنا حق سمجھ لیتا۔خیال