خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 320
خطبات طاہر جلد ۲ 320 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء سے باعتبار رتبہ کے مقدم ہے گویا فی الحقیقت مبتداء ہے جو بہر حال پہلے ہوتا ہے اور یہ متعلق خبر ہے۔یہ عربی کی بحث ہے زیادہ تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا مگر مختصر یہ کہ اس اعتراض کو انہوں نے یہ کہہ کر حل کر دیا کہ فِدْيَةٌ کا مقام باعتبار رہے کے پہلا ہے کیونکہ متبداء کا اصل مقام ہمیشہ پہلے ہی ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ جملوں میں بعض قوانین کے تابع تقدیم تاخیر ہو جاتی ہے۔اس لئے یہ اعتراض رد ہو جاتا ہے اور فصاحت و بلاغت پر اس کا کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔دوسرے اعتراض کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ اگر چہ لفظ فِدْيَةٌ مونث ہے مگر طَعَامُ مِسْکین اس کا بدل یعنی قائم مقام ہے جو مذکر ہے اور اصل مراد طعام مسکین ہے یعنی غریب کو کھانا کھلا نا فِدْيَةٌ کا معنی ہوگا بطور فدیہ غریب کو کھانا کھلانا۔پس چونکہ اصل طَعَامُ مِسْكِينِ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مذکر کی ضمیر اس طرف پھیر دی۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے یہ دو وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ایک تیسری وجہ جو انہوں نے بیان نہیں فرمائی وہ واضح ہے کہ اگر مونث کی ضمیر پھیری جاتی تو دوسرے معانی جو اللہ تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا تھا وہ پیدا نہ ہو سکتے کیونکہ پھر ضمیر صیام کی طرف نہیں پھر سکتی تھی اور اس میں بھی ایک نئے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ فصاحت و بلاغت کا کمال ہے نہ کہ فصاحت و بلاغت سے گرنا کہ ضمیر کو اس طرح چنا گیا کہ بظاہر جو مونث ہے اس کی طرف بھی پھیری جاسکتی ہے اور جو مذکر ہے اس کی طرف بھی جاتی ہے اور مضمون میں بڑی وسعت پیدا ہو جاتی ہے (الفوز الکبیر: صفحہ ۱۸) اگر یہ کہا جائے کہ يُطيقُونَہ سے مراد روزہ رکھنے کی طاقت ہے تو اس سے تو مضمون الٹ پلٹ اور بے معنی ہو جاتا ہے۔یہ تو بڑی واضح اور سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ يُطيقُونَهُ سے مراد فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْن ہے اور خدا تعالیٰ یہ فرمانا چاہتا ہے کہ وہ لوگ جو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتے ہوں ان کو ہم یہ نصیحت کرتے ہیں کہ جن دنوں وہ روزہ نہ رکھ سکیں وہ غریبوں کو کھانا کھلائیں تا کہ ان کو تسکین ملے کہ وہ بھی کسی نہ کسی رنگ میں عبادت میں شامل ہیں۔مگر اس کے کیا معنی ہوئے کہ جولوگ روزے کی طاقت رکھتے ہیں وہ کھانا کھلائیں۔جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں کا جواب تو یہ ہونا چاہئے کہ وہ روزہ رکھیں نہ کہ دوسروں کو کھانا کھلا کر چھٹی کر جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے يُطيقونہ کے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ جو طاقت نہ