خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 321 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 321

خطبات طاہر جلد ۲ 321 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء رکھتے ہوں ( بدر جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۰۷) - بعض مفسرین نے بھی یہی معنی کئے ہیں لیکن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ دوں گا۔يُطيقُونَہ ایک ایسا فعل ہے جس میں منفی معنی بھی پائے جاتے ہیں کیونکہ باب افعال میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ بعض دفعہ وہ مثبت معنی دیتا ہے اور بعض دفعہ وہی باب منفی معنی بھی دے دیتا ہے۔اس لحاظ سے جب يُطيقُونَہ میں کی ضمیر صیام کی طرف پھیری جائے گی تو یہ مطلب بنے گا کہ وہ لوگ جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ غریب کو کھانا کھلائیں۔لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ جو روزے کی طاقت نہیں رکھتے وہ غریب کو کھانا کھلا ئیں؟ کیونکہ جو طاقت نہیں رکھتے ان کو تو اللہ تعالیٰ چھٹی دے چکا ہے کہ وہ بعد میں روزے رکھیں۔اس میں دراصل ایک اور مضمون پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بعد میں ہر آدمی روزہ نہیں رکھ سکتا۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو وقتی بیمار ہوتے ہیں۔چند دن بیمار ہوئے پھر صحت ہوگئی اور ان کو یہ تسلی ہو گئی کہ ہم بعد میں روزے رکھ لیں گے اور دراصل ان کا روزہ رکھنا ہی پہلے روزوں کا فدیہ ہے۔پھر مسافر ہوتے ہیں جن کو عارضی سفر لاحق ہے اس کے بعد وہ فارغ ہو جاتے ہیں۔لیکن کچھ بیمار ایسے ہوں گے جو دائم المرض ہیں یا عمر کے ایسے حصے کو پہنچ چکے ہیں کہ وہ روزے کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔وہ کیا کریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کے لئے بھی میں ایک تسلی کا سامان رکھتا ہوں۔وہ یہ دکھ محسوس نہ کریں کہ اب ہم کبھی بھی روزہ نہیں رکھ سکیں گے۔وہ غریبوں کو کھانا کھلائیں اور اس طرح ان کے ساتھ شریک ہو جائیں۔سوال یہ ہے کہ روزے اور غریب کو کھانا کھلانے کا کیا تعلق ہے؟ وہ تعلق دراصل یہ ہے کہ روزے میں انسان خود غریب بنتا ہے اور غریب کا دکھ بانٹ رہا ہوتا ہے۔پھر روزے کا ایک یہ پہلو بھی ہے کہ جب وہ غریب کو کھانا کھلاتا ہے تو اپنا سکھ اسے دے رہا ہوتا ہے۔دونوں جگہ غریب کو فائدہ پہنچ رہا ہوتا ہے۔پس روزے کے بے شمار فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ ایسے امرا جن کو وافر اور کئی انواع کا کھانا میسر ہے وہ اگر روزہ نہ رکھیں تو ساری عمران کو پتہ ہی نہیں لگ سکتا کہ بھو کے پیٹ کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ شدید پیاس میں مبتلا انسان کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ بھوکا ہو اور پھر کام کر رہا ہو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ امیر جان نہیں سکتا کہ بھوک بعض دفعہ کام پر مجبور کر رہی ہوتی ہے کیونکہ کام کے بغیر بھوک نہیں ملتی۔جتنا زیادہ کام کرتا ہے اتنی زیادہ بھوک بھڑکتی ہے۔یہ سارے احساسات اور کیفیات