خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 298
خطبات طاہر جلد ۲ 298 خطبہ جمعہ ۲۷ مئی ۱۹۸۳ء خلاف ہے لیکن کوئی معقول انسان اسے جھوٹ نہیں کہہ سکتا اس لئے کہ کہنے والا جانتا ہے کہ دوسرا اس پر یقین نہیں کرے گا اور کہنے والا اس مقصد کی خاطر کہتا بھی نہیں کہ دوسرا اس پر یقین کرے۔پس جھوٹ یہ ہوتا ہے کہ خلاف واقعہ بات اس مقصد سے کہی جائے کہ دوسرا اس پر یقین کرلے اور کہنے والے کے نزدیک اس بات کا امکان ہو کہ دوسرا اس پر یقین کر سکتا ہے لیکن اگر اس کے برعکس مطلب ہو اور کہنے والے کے دل میں کامل یقین ہو کہ دوسرا یقین نہیں کر سکتا اور اس کے نتیجہ میں وہ کچھ اور بتانا چاہتا ہے تو پھر یہ جھوٹ نہیں ہے۔اسی طرح اس کے برعکس یہ مثال ہے کہ واقعہ تو سچا ہے لیکن کہنے والا جھوٹا ہے۔اس کی بہترین مثال قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ المنافقون میں فرماتا ہے: إذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوْا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنْفِقِينَ تَكْذِبُونَ (المنافقون: ۲) کہ اے محمد! ( ﷺ ) منافق تیرے پاس آتے ہیں اور حلف اٹھا کر کہتے ہیں کہ اے محمد ! ہم گواہ ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے کیونکہ جس نے بھیجا ہے اس کو زیادہ پتہ ہے۔اس کے باوجود خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹ بول رہے ہیں۔واقعہ سچا بیان کر رہے ہیں لیکن جو واقعہ بیان کر رہے ہیں اس پر ان کو اعتماد نہیں ہے۔یہ مقصد نہیں ہے کہ دوسرے بھی اس کو بچے واقعہ کے طور پر تسلیم کر لیں۔مقصد یہ ہے کہ دوسرے اس بات کو تسلیم کر لیں کہ ہم اس کو سچا سمجھتے ہیں اس لئے جھوٹ بن گیا۔پس اگر آپ سچ اور جھوٹ کا تجزیہ کریں تو دونوں شکلیں سامنے آجاتی ہیں۔خلاف واقعہ بات بیان کی جارہی ہے لیکن اس کا جھوٹ سے کوئی تعلق نہیں۔بالکل سچی بات بیان کی جارہی ہے اور ایسی سچی کہ اس سے زیادہ سچی بات انسانوں کے سامنے کبھی نہیں آئی یعنی کلمہ توحید کہ اللہ ایک ہے۔یہ سب سے سچی بات ہے۔اس کے بعد دوسرے درجہ کی بات یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔خدا کہتا ہے کہ یہ منافق بظاہر سب سے سچی بات کر رہے ہیں لیکن ہیں جھوٹے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے معاملے میں کیا واقعہ ہوا؟ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا شروع میں ہی قوم کے لوگوں کو یہ بتا دینا کہ میں تمہارے بتوں سے کچھ کرنے والا ہوں قطعی