خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 299

خطبات طاہر جلد ۲ 299 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۳ء طور پر ثابت کرتا کہ آپ کوئی ایسی بات نہیں کر رہے جس کے ذریعہ اپنے اوپر سے واقعۂ الزام ٹالنا چاہتے ہیں۔وہ تو کھلے طور پر بتارہے ہیں کہ میں تمہارے بتوں کے ساتھ کچھ کرنے والا ہوں اور آپ کو کامل یقین تھا کہ قوم کے لوگوں کے لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ مان جائیں کہ کسی اور نے یہ فعل کیا ہے اور ان کے دل گواہی دیں گے کہ یہ بات جھوٹ ہے۔پس جھوٹ کی حقیقت کھولنے کے لئے واقعہ بیان ہو رہا ہے نہ کہ جھوٹ کی تائید کے لئے اور بالکل برعکس نتیجہ نکالا جارہا ہے۔حضرت ابرا ہیم کا قول جھوٹ پر سے پردہ اٹھا رہا ہے نہ کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور اس کمال فصاحت و بلاغت کے ساتھ پردہ اٹھا رہا ہے کہ قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ جب قوم کے لوگوں نے اپنے نفسوں میں غور کیا تو ان کے دل سے یہ آواز اٹھی کہ ہاں ظالم تم ہی لوگ ہو۔حقیقت یہ ہے کہ ان بتوں میں کوئی سچائی نہیں۔نُكِسُوا عَلی رُءُوسِهِمْ گویا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں وہ اوندھے منہ جا گرے۔ایسی مار کھائی ہے کہ سر کے بل زمین پر جا پڑتے ہیں۔الغرض مضمون کا سارا سیاق و سباق بتا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بات کو ایک نہایت اعلی منطقی دلیل کے طور پر استعمال کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے شروع میں فخر بیان کیا کہ ہم نے ابراہیم کو رشد دی تھی۔رشد کے بعد کیا خدا تعالیٰ نے جھوٹ کا واقعہ بیان کرنا تھا؟ یہ اچھا رشد ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑی شان سے تعریف فرما رہا ہے کہ جس بندے کا میں ذکر کر نے والا ہوں اس کو ہم نے ہی رشد عطا کی تھی اور اس کی خوبیوں سے ہم گہرائی تک واقف تھے، خوب باخبر ہونے کے بعد اس کو مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور آگے واقعہ نعوذ باللہ من ذالک جھوٹ کا بیان کر دیا۔یہ بالکل لغو بات ہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ خدا ایسا کرے۔پس اس مضمون کو پہلے ہی کھول دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جھوٹ بولنے کے لئے ہر گز آمادہ نہیں تھے۔انہوں نے پہلے ہی قوم کو بتا دیا تھا کہ میں یہ کام کرنے والا ہوں اس لئے بعد میں جو واقعہ خدا بیان کرتا ہے وہ فصاحت و بلاغت کا کمال ہے اور دشمن کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ایک نہایت اعلیٰ درجے کی دلیل ہے۔فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ اس کا ایک یہ ترجمہ بھی ہے کہ وہ اپنے نفسوں میں ڈوب گئے۔انہوں نے اپنے دلوں میں غور کیا اور دلوں سے یہ آواز اٹھی انکم انتُمُ الظَّلِمُونَ لیکن شکست کھانے کے نتیجے میں وہ ڈھیٹ ہو گئے اور شکست تسلیم کرنے کی بجائے انہوں نے آخر یہ کہا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاءِ