خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 287 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 287

خطبات طاہر جلد ۲ 287 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء طرح بھوک اور پیاس کو مٹانے کے لئے رزق اور پانی کے محتاج ہو، ہم پر تمہیں کیا فضیلت حاصل ہے۔ناصح بن کر ہم پر اپنی کیا فوقیت جتاتے ہو، ایک عام انسان ہو کر خدا کی باتیں کر کے خدا کی طرف سے ہمیں پیغام دینے لگ گئے ہو۔تُرِيدُونَ اَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَاہم تمہاری اس حرکت کو سمجھتے ہیں۔سوائے اس کے تمہارا اور کوئی مقصد نہیں کہ تم اس مذہب کو تبدیل کر دو جو ہمارے آبا واجداد کا تھا اور یہ اشتعال انگیزیاں ہیں ہم ان کو برداشت نہیں کریں گے ، فَأْتُونَا بِسُلْطنٍ مُّبِينِ اب ہم نے بات کھول دی ہے، اب کوئی معین دلیل لاؤ جو اس کے خلاف ہو۔انہوں نے بھی دھمکی کے جواب میں دھمکی دی لیکن جیسے لیٹی ہوئی دھمکی پہلے دی ویسے ہی لیٹی ہوئی دھمکی اب ہے جو آگے جا کر کھل جائے گی۔چنانچہ انہوں نے کہا، اچھا! تم خدا کی طرف سے ہمیں انذار کرتے ہو، خدا تو پتہ نہیں ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کہاں ہے، ہم تو تمہارے سامنے موجود ہیں، ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ہم تمہاری نیتوں کو سمجھ گئے ہیں اور تمہاری شرارت کو پہچان گئے ہیں، تمہارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد جھوٹے تھے تم ان کو گالیاں دیتے ہو۔تم یہ جو کہتے ہو کہ ان کے راستہ سے ہٹ جاؤ تو گویا یہ بتانا چاہتے ہو کہ ہمارے سب بزرگ جھوٹے تھے اور بد کردار تھے اور ہم نے ان کا جو راستہ اختیار کیا ہے یہ رستہ غلط ہے۔اگر ہم یہ غلط بات کرتے ہیں تو اس کے مقابل پر کوئی دلیل لا وَقَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ کیسا صاف، سادہ اور پاکیزہ جواب دیا ہے۔رسولوں نے کوئی غصہ نہیں کیا۔فرمایا ہاں ٹھیک ہی تو ہے ہم تمہاری ہی طرح کے انسان ہیں۔ہم میں اور تم میں بشریت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے وَلكِنَّ اللهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِہ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اپنے انعام کے لئے چن لیتا ہے اور جن بندوں پر اللہ انعام فرمائے ان میں اور عام بندوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔بظاہر بشریت کے لحاظ سے ہم ایک ہیں اور ایک ہی مقام پر فائز ہیں لیکن ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ اللہ ہم پر رحمتیں نازل فرمارہا ہے لیکن تم اللہ کی رحمتوں سے محروم ہورہے ہو۔ان دو قسم کے بشروں میں تو بہت ہی بڑا فرق ہے۔بحیثیت بشر کے ذاتی طور پر ہم میں یہ طاقت نہیں ہے اَنْ نَّأْتِيَكُمْ بِسُلْطن کہ ہم تمہارے مقابل پر کوئی دلیل پیش کریں جو تم پر غالب آجائے۔سلطان ایسی دلیل اور حجت اور برہان کو کہتے ہیں جو دوسرے کو مغلوب کر دے۔الَّا بِإِذْنِ اللہ ہاں جب اللہ چاہے گا تو وہ ضرور ایسے سلطان بھیجے گا جو تمہیں مغلوب کر دیں گے وَعَلَى اللهِ